Friday, 13 March 2015

برطانیہ میں مقیم ممتاز دانشور جناب افضل چوہدری کا امن مشن کا حسین خواب میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ , ashraf asmi wrote about the web tv, life, launced by renowned journalist , in UK..

   

LIFE     

برطانیہ میں مقیم ممتاز دانشور

جناب افضل چوہدری کا امن مشن کا حسین خواب

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

زندگی کی خوبصورتی اور فطرتی تقاضوں کی اہمیت کے حوالے سے ایک بہت ہی اعلیٰ پائے کی ہستی کے ساتھ چند نشستوں کی گفتگو نے مجھے باعث افتخار لمحات سے سرفراز فرمایا۔ میڈیا خواہ الیکٹرانک ہو یا پرنٹ اِس کے ساتھ بہت سے حقائق منسلک ہیں۔پاکستانی معاشرے میں دولت کی حرص نے معاشرئے سے رواداری کو ختم کر چھوڑ ا ہے۔ جن معاشروں میں نفوس پزیر ی کے حامل افراد اپنا فرض ادا کرنے کی بجائے خود بھی حرص کی دوڑ میں مشغول ہو جائیں تو پھر سچائی دب کر رہ جاتی ہے۔ راہبر راہزنوں کا روپ دھار لیتے ہیں اور ہر کوئی زندگی کے فطری مقاصد کو فراموش کر دیتا ہے یوں منزل بھی گمشدہ راہ کی مانند کہیں کھو جاتی ہے۔جناب افضل چوہدری جو کہ گہرئے مشاہدات کے حامل ممتاز دانشور ہیں جنہوں نے 37 ممالک کی سیاحت کی ہے اور ان کے کالم زندگی کے حقیقی مقاصد کا مظہر ہیں میرئے چیمبر لاہور ہائی کورٹ میں تشریف لائے انکی فکر انگیز گفتگو نے سوچ کے دھارے امن روشنی بھائی چارئے کی ضرورت کو ایک نئے آہنگ سے روشناس کیا۔ سوشل میڈیا میں میں جناب افضل چوہدری کی تحریر نے مجھے بہت متاثر کیا اور اِس بات کا ذکر میں اکثر اپنے احباب سے بھی کرتا ہوں۔ یوں مجھے جناب افضل چوہدری صاحب سے رابطوں کا موقع میسر آیا۔ جناب افضل چوہدری جب میرئے چیمبر ملحقہ لاہور ہائی کورٹ میں تشریف فرما تھے تو مسلم دنیا کے حقیقی مسائل اور مسلمانوں کی غفلت اور علم سے دوری کا اظہار بہت درمندی سے فرما رہے تھے۔ اِسی طرح اُنھوں نے پوری دنیا کے انسانوں کے درمیان مذہبی ہم آہنگی کوموجودہ دور کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا۔ جناب افضل چوہدری کا یہ استدلال کہ ہم خود ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے معاشرئے میں معاشی سماجی انقلاپ بپا کر سکتے ہیں۔مختلف معاشروں کا قریب سے مشاہدہ کرنے والے جناب چوہدری افضل ہر معاشرئے کی سماجی نفسیاتی ، روحانی سماجی عمرانی پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کا تقابلی جائزے کا تفسیل سے ذکر کیا۔ مجھے یہ بات بہت اچھی لگی کہ ہم دوسرئے ملکوں کو بُرا بھلا کہنے کی بجائے خود کو اچھا بنائیں۔ جب ہم مالی مفادات کے لیے دوسروں ملکوں کے دستِ نگر نہیں ہوں گے تو پھر ہمارا معاشرہ بھی خوداری کی جانب رواں دواں ہو سکے گا۔ قرض کی مےٰ پھر اپنا اثر تو دکھاتی ہے.جناب افضل چوہدری نے لائف کے نام سے ویب ٹی وی کاآغاز کیا ہے ۔ مقصد اِس کا یہ ہے کہ انسانیت کی محبت رواداری کے حوالے سے آگہی کا مشن ہے۔ جناب افضل چوہدری ملکوں ملکوں پھرئے ہیں ۔اور ان کے مشاہدات اِس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ انسانیت کی خدمت ہی بہت بڑی خدمت ہے اور انسانیت کی عزت و توقیر کا سب سے اعلیٰ و ارفعٰ منبع جن کی شخصیت تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے جناب نبی پاکﷺ ہیں اور اُن کی سنت اور اور اُن پر نازل ہونے والا قران راہ نجات ہے۔جب افضل چوہدری صاحب دنیا میں امن و آشتی اور بھائی چارئے کے حوالے سے اپنی زندگی کو اوڑھنا بچھونا قرار دیتے ہیں تو مجھے اُن کی مساعی جمیلہ پر رشک آتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ افضل چوہدری صاحب حثیت شخصیت ہیں اور اُن کا روبار اللہ پاک کے فضل وکرم سے بہت اچھا ہے اِس لیے چوہدری صاحب کا لائف کے نام سے ویب ٹی وی اور لو فار لائف کے نام سے فاونڈیشن کا قیام اُن کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے جو معاشرے کے لیے اُنھوں نے کیا۔دیار غیر میں جا بسنے والے پاکستانی جہاں پاکستان میں غیر ملکی زرِمبادلہ بھیجتے ہیں وہاں وہ پاکستان کے نمائندئے کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنی محنت کی کمائی اور اپنے پیاروں سے جُدائی دونوں باتیں اُن کے لیے اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ایک ایک لمحہ اپنوں سے دور رہ کر گزار نا اُن کو کاٹنے کو دوڑتا ہے۔ لیکن ملک کے معاشی حالات میں ابتری کے سبب بہت سے لوگ غیر ملک سدھار جاتے ہیں۔بلکہ میں ایسے بہت سے ایماندار لوگوں کو جانتا ہوں جو صرف رشوت کے خوف سے اور کرپشن سے دور رہنے کے لیے باہر جانے کو تر جیح دیتے ہیں گویا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان مملکتِ خدا داد کے حکمرانوں نے اِس ملک کو اِس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ یہاں رہنے والے باشندئے اسلامی تعلیمات کے عیں مطابق رزق کما سکیں اور روز مرہ کے معاملا ت میں بھی اسلامی تعلیمات کو ملحوظِ خاطر رکھ سکیں۔اِس لیے غیر ممالک میں جا کر ایک طرف تو اُن کو بہت سے مسائل سے نجات مل جاتی ہے اور قدم قدم پر ہونے والی زیادیتوں پر کُڑھنا نہیں پڑتا اور دوسری جانب معاشی و سماجی انصاف کی بدولت اُن معاشروں میں پائے جانے والے عمرانی رویے بھی اُن کے لیے طمانیت کا باعث بنتے ہیں۔اِسی طرح کے ہمارئے بہت سے احباب سے صرف معاشی ناہنجاریوں اور بے ثباتیوں کی وجہ سے وطن کی مٹی سے دور ہوتے چلے گئے۔برطانیہ میں دو دہائیوں سے مقیم معروف صحافی جناب محمد افضل صاحب کا تعلق بھی ایسے ہی قبیلے سے ہے جو کہ وطن اور اُمت کے مسائل کی وجہ سے خود کو سوچوں میں غرق کیے ہوئے صحافتی محاذ پر ملک وملت کی رہنمائی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جناب محمد افضل صاحب کی تحریریں پڑھنے کا موقع ملا تو اُن کا ایک ایک لفظ اُمت کی اجتمائی بے حسی کا نوحہ کرتا نظر آتا ہے۔خود کو دیار غیر میں جاکر منوانا اور اپنے صحافتی مشن کے لیے ملکوں ملکوں پھرنا اور نامور شخصیات سے بالمشافہ ملاقاتیں کرنا یہ وہ صحافتی وصف ہے جس کے سبب جناب محمد افضل بہت اچھے لکھاری ہونے کے ساتھ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ملکوں ملکوں گھوم کر اپنے مشاہدات کی روشنی میں محمد افضل صاحب کا یہ استدلال ہے کہ ہم نے نبی پاکﷺ کی محبت اور عقیدت کو اطاعت میں نہیں ڈھالا۔ جس کی وجہ سے ہمارئے اعمال ہمارئے اقوال کی تصدیق نہیں کرتے اور یوں دنیا بھر میں مسلمانوں کو ہر شعبے میں پسپائی کا سامنا ہے بلکہ ایک رب پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں نے دنیا میں کئی ملکوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے۔اپنے حقیقی رب کو چھوڑ کر سپر پاور کے آگے جھکنے والے مسلمان ممالک خود سے ہی مخلص نہیں ہیں۔اور معاشی اور سماجی انصاف کے حامل ترقی یافتہ ممالک اسلامی تعلیمات کے عملی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ جب کہ ہم راگ توحید کا الاپتے ہیں اور اعمال دنیا کی بدترین اقوام والے کر رہے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ جو بھی پاکستانی وطن کی محبت میں واپس آتا ہے وہ کچھ عرصہ بعد ہی واپس چلا جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں نہ تو کسی کی جان محفوظ ہے اور نہ کسی کا مال اور نہ کسی کی عزت۔حکمرانوں نے عوام کو اِس قدر مایوس کر دیا ہے کہ لوگ پاکستان کے وجود پر ہی اب سوال اُٹھانے لگے ہیں۔رواداری تحمل اور برداشت کے حوالے سے ہم بہت پیچھے رہ گے ہیں۔لندن سکول آف جرنلزم سے اکتساب کے حامل جناب محمد افضل اُمتِ مسلمہ بالعموم اور پاکستان کے حوالے سے بالخصوص اِس بات کے داعی ہیں کہ امن پیار محبت رواداری کو فروغ دیا جائے اور نبی پاکﷺ کی تعلیمات کو اطاعت میں ڈھالا جائے۔ پاکستانی قوم کو جناب محمد افضل صاحب جیسے محب وطن اور انسانیت کا درد رکھنے والے اِس دانشور پر فخر ہے۔اللہ پاک سے دُعا ہے کہ اللہ پاک محمد افضل اور اُن کے اہل خانہ کو اپنی امان میں رکھے اور ملک و ملت کی رہنمائی کے لیے اُن کو ہمیشہ ہمت عطا فرمائے۔جناب افضل چوہدری نے خانہ بدوش بچوں کی تعلیم کے لیے بھی پاکستان میں دو سکولوں کا آغاز کیا ہے ۔اِس درد کے حامل مخلص دانشور کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مجھے اپنی کم مائیگی کا ا حساس ہے۔ اللہ پاک جناب چوہدری صاحب کو ہمیشہ کامیاب کو کامران رکھے۔آمین

No comments:

Post a Comment