Saturday, 4 July 2015

WHY MODI, INDIAN PRIME MINISTER AFRAID FROM PAKISTAN, READ THE COLUMN BY ASHRAF ASMI ADVOCATE, HUMAN RIGHTS ACTIVIST.. بھارتی وزیر اعظم مودی پاکستان سے کیوں ڈرتا ہے؟ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

 بھارتی وزیر اعظم مودی پاکستان سے کیوں ڈرتا ہے؟

  صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
وزیراعظم ہندوستان کا شیطانی ذہن مسلم دنیا کے حوالے سے بالعموم اور پاکستان کے حوالے بالخصوص جس طرح کی دُشمنی رکھتا ہے اُس کا اندازہ حسینہ واجد کے ساتھ بیٹھ کر پاکستان توڑنے کا اقرار ہے۔ جو لوگ پاکستان میں رہ کر بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہیں اور پاکستان کے وجود پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں۔اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ قصور پر پاکستان کی تخلیق کا نہیں قصور اِن حکمرانوں کا ہے جو اِس ملک کو گدھ کی طرح کھار ہے ہیں۔نظریہ پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کے منہ پر مودی کا پاکستان توڑنے کا اعتراف ایک زناٹے دار تھپڑ ہے۔ میری ذیل کی تحریر نظریہ پاکستان کی حقانیت کے حوالے سے ہے اسلا میہ جمہوریہ پاکستان ، ایک مخصوص نظرئے کی بنیاد پر معرض وجوڈ میں آیا تھا اور وہ نظرۂ تھا ، نظرۂ پاکستان ۔۔ برِ صغیر میں دو قومی نظرئے کی کوکھ سے اْبھرنے والا نظریہ دراصل اپنے تمام معانی، مصادر منابع کے نقطہ نظر سے نظرۂ قرآن اور نظرۂ اسلام ہے۔ کیونکہ تحریک پاکستان کے مراحل کے دوران اسلامیان ہند نے جو نظریاتی نعرہ بلند کیا تھا وہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہٰ ا لاللہ۔پاکستان عالیشان کا وجود باسعود ، ایک مرد قلندر ، مرد حریت اور مرد ایمان اور مرد امتحان ، حضرت قائداعظم ؒ ، کی محنت شاقہ کی بدولت ہوا ۔ حضرت علامہ اقبال ؒ کی روحانی اور ایمانی الہامی شعری کا وشوں نے اپنا رنگ دکھیا اور انہوں نے برصغیر کی غلامی میں پھنسی ہوئی مسلمان قوم کو احساس تفاخر ور خودی کی بیداری کا پیگام دے کر انہیں آزقدی کے اوج ثریا تک پہنچانے کیلئے اپنا خون جگر عطا کیا ۔علم و عقل میں اگر تضاد اور تصادم رہے گا تو ظاہر ہے کہ اس بنی ہوع انسان میں انتشار اور تخریب کا باعث بنے گا ، اور بالآخر قومی زوال کا پیش خیمہ ۔ خدائے بزرگ و برتر نے اْن افراد کو یہ اعزاز عطا فرمادیا ۔ جنھیں دائرہ اسلام نے اسلام میں داخل ہونے کا شرف نصیب ہوا، وہ افراد دنیائے انسانیت کے خوش قسمت ترین انسان ہیں جنہیں حضور اکرم ﷺ کے یک امتی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ دین اسلام نے مسلمانوں کے قلوب و ارواح میں جس فلسفہ توحید کو موجزن اور مرتسم کیا ہے، اْس سے ان میں فکری وحدت ، تہذیبی ہم آہنگی ، دینی حریت ور نسانی سطح پر احساس تفاخر کی تخلیق ہوئی ۔ جب قلوب و اذہان میں تصور توحید جلوہ گر نہ ہو انسان کی شخصیت میں وحدت پیدا نہیں ہو سکتی، ظاہر ہے کہ مسلمان ایک باری تعالیٰ جو وحدہ لاشریک ہے اس پر پختہ ایمان و ایقان رکھے گا ، تو جب ہی اپنے ندر بھی وحدت پیدا کرے گا ۔ اس تمام فلسفہ حیات کا منبع ، ماخذ، روح، اساس ، سرچشمہ اور بنیاد قرآن الحکیم ہے۔ اس نظرئے کو قرآن کی تعلیمات اور حکام کے پیش نظر مجدد الف ثانی ؒ ، حضرت داتا گنج بخش ؒ اور دوسرے اولیائے کرام اور مجتہدین قابل صد احترام نے اسی نظرئے کو اپنے خون جگر سے سینچا اور روحانی کمالات سے اس عظیم عمارت کی بنیاد وں کو استحکام سے ہمکنار بھی فرمایا۔ انہی بابرکت اور روحانی شخصیات کی تعلیمات مقدسہ نے حضرت علامہ اقبال ؒ اور حضرت قائد اعظم ؒ کے افکار ملہ اور قومی نظریات ، دینی، اسلامی ، قومی امنگوں کا رنگ بھر دیا تھا۔ حضرت علامہ اقبال ؒ نے اسلامیان ہند کو پیغام خودی دیا ۔ انہیں انتشار ونکبت سے جگایا او ایک قوم کی شکل میں متشکل کر دیا ۔ حضر ت قا ئد اعظم ؒ نے اسلامیان ہند کو اپنی تقاریر ، خطابات ، اور علمی اور قانونی نظریات وارشادات کی روشنی میں انگریزوں اور ہندؤں کی استعمار پسند انہ اور تشدد آمیز رویوں سے آگاہ کرتے رہے اور انہیں اپنی اسلامی اقدار و رو ایا ت اور تاریخ کی روشنی میں تیار رہنے کی ہدایت کرتے رہے۔ حضرت قائداعظم ؒ نے اسلامیان ہند کے قلوب واذہان میں آزادی کی جو لو لگائی وہ الاؤ بن کر سامنے آئی اور پاکستان دنیائے انسانیت کے نقشے پر بڑی شان وشوکت کے ساتھ ظہور پزیر ہوا۔ قرآن حکیم نے استفسار فرمایا: خدا تعالیٰ نے تم سب کو تخلیق فرمایا ‘ پھر تم میں سے ایک گروہ نے بلند و بالا اور عالمگیر انسانیت سے انکا کردیا ‘ اور دوسرے گروہ نے اسے تسلیم کر لیا۔ ((64/2 یہی وہ انسانیت کی تفریق اور امتیاز کا میعار ہے جو قرآن حکیم انسانوں کے لیے پیش کرتا ہے۔ اسی کے مطابق دواقوام واضح ہوتی ہیں ایک دوسری غیر مسلم ۔ ایک مومن اور دوسری کافر یہی وہ فلسفہ فکر نظر تھا کہ حضرت نوح ؑ اپنے سے الگ ہو گئے اور حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ سے علیحدہ ہو گئے۔ کیونکہ دونوں کی حقیقی کیفیت میں نظرۂ حیات مبنی بروحی سے ہم رمگ اور ہم آہنگ نہ تھا قرآن کے حوالے سے حضرت ابر اہیم ؑ کو کہنا پڑا۔ (یعنی تم میں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کے لیے کھلی عداو ت اور نفرت رہے گی۔)چنانچہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ اسلامی ریاست وحکومت میں شامل نہ گیا۔ حضور پاک ﷺ کی مجلس شوریٰ میں کبھی کوئی غیر مسلم نہ تھا۔ خلفائے راشدین رضی اللہ علیم اجمعین کی مجلس شوریٰ اور پارلیمان میں کوئی غیر مسلم کا داخل نہ تھا ۔ بلکہ کافر یا غیر مسلم ، ملت اسلامیہ کا ف رد ہی نہیں تھا لہٰذا اسلام اور قرآن کے نزول کے ساتھ ہی بنی انسان دو مختلف نظریات اور حتمی طبقات میں تقسیم ہو گئے۔ ایک نظریہ ایمان نہ لانے والوں کا ۔ چنانچہ اولاد آدم دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئی شرار بو لہبی ایک جانب اور چراغ مصطفیٰ ﷺ دوسری جانب ، اس نظریے نے خون اور حسب و نسب کی نفی نھی کردی ۔ برادری ، قبیلے اور ذات پات کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ۔ اس کی بہترین مثال جنگ بدر اور جنگ اْحد ہے جس میں نبی الزماں حضور اکرم ﷺ دوسرے صحابہ کرام کے قریبی رشتہ دار دشمن کے صف میں براجماں تھے، چنانچہ قرآن نے کافروں اور منافقین کے ضمن میں ملت اسلامیہ کو بڑی سختی سے متبنہ کیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے نظرۂ پاکستان کا آغاز ، تشکیل ، اور تراویح برصغیر میں اس وقت ہوئی جب مسلمانوں کو انتشار و افتراق اور زوال و انھطاط کا سامنا کرنا پڑا اور ہندوں کی اصل فطرت کے شاہکار وں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان کے مظالم کا گھناونی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ بالخصوص 1857ء ؁ کی جنگ آزادی کے بعد کی بڑی دلدوزداستان ہے، جسے غربی اور شرقی مفکرین و مصنفین نے خوب بیان کیا ہے یہ اپنے طور پر ایک طویل داستان ہے۔ مولانا ابولکلام آزاد کی کتاب india wins freedom ولیم ہنٹر کی کتاب 5 indian mussalmans عبدالوحید خان کی کتاب تقسیم ’’ہند‘‘ اور ان کی دوسری کتاب ’’ مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ کالنز اور لاپیئر کی کتاب 'freedom at midnight' اور پروفیسر منور مرزا کی کتاب Dimension of Movement اور دیوار’’ برہمن‘‘ کا مطالعہ کرلیں۔ ان شنکرو ں ، دیالوں ، بگوپالوں ، مہاجروں، ساہنیوں ، دھوتی پرشادوں ، چٹیا گھنٹانوں ، ایڈانیوں ، ملکانیوں، مشراوں، بال ٹھاکروں، من موہنوں اور بڑے بڑے مہاپرشوں نے اسلام ، پاکستان ، نظریہ پاکستان دو قومی نظریہ اور مسلمان دشمنی میں کسر اٹھا رکھی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔ ہمارے سابق مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے غدار سیاستدانوں نے ہماری تاریخ اسلام کو منسخ کر کے دیا۔ جو ایمانی اور ایقانی روح سے محروم تھے۔ جو قرآنی جرات و استقامت سے سرمایہ دارا نہ تھے۔ ہمارے جسم کا اسیک بازو کٹ گیا چنانچہ اندر گاندھی نے زور خطابت کے نشے میں یہ کہا ’’ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے، ہم نے ایک ہزار سال کا بدلہ لے لیا ہے۔ لیکن ہم نے اندرا گاندھی اور ان کے مخلص چیلوں چانٹوں اور حواریوں اور ان کے حاشیہ برداروں کو اسی وقت باور کرارہے ہیں اور کراتے رہیں گے کہ جب تک ایک مسلمان بچہ بھی برصغیر پاک و ہند میں زندہ ہے اسلام اور کفر کی جنگ جاری رہے گی، اسلام کا جھنڈا موجود رہے گا ، اس جذبہ محرکہ کو جس تصور ، خیال ، اصول ، جابطے یا نقطہ نظر نے تخلیق کیا اسے نظرۂ پاکستان کا نام دیا گیا ۔ جسے انگریزی میں Iddeology of pakistan کہتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت قائداعظم 1944ء ؁ میں مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ) میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان مطالبہ کا جذبہ محرکہ کیا تھا؟ مسلمانوں کے لیے ایک جداگانہ مملکت کی وجہ جواز کیا تھی۔ تقسیم ہند کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ اس کی وجہ نہ ہندوں کی تنگ نظری ہے۔ نہ انگریزوں کی چال ، یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے۔ اور یہی دراصل مطالبہ نظرۂ پاکستان کی ترجمانی کرتا ہے۔ مسللہ یہ ہے کہ تکلیف صرف اسلام سے ہے کیونکہ کسی غیر مسلم کے اسلام قبول کر لینے کے بعد جس طرح اس کے زمین و آسمان بدل جاتیہیں وہ عجیب کیفیت ہے، اس کے خیالات و تصور ات اس کے جذبات و احساسات اور انسانیت کے جملہ تمام اطوار یکدم وحدہ لاشریک کی ذات اقدس سے جڑ جاتے ہیں اور پھر۴ اس کا رخ ممبئ کلکتہ اجودھیا دہلی اور بجنور سے مکہ اور مدینہ کی طرف ہو جاتا ہے اس روحانی اور دینی تبدیلی کی مسٹر گاندھی کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔ ان سے پہلے ہو گزرے مہاپرشوں کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی، ان مہا گرووں کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی ، اور نہ ہی آسکتی تھی اور اب یہ کیفیت کا فرما ہے مسٹر گاندھی عجیب مکاریت و فریب کاری کے انداز گفتگو میں کہا کرتے تھے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک سیدھا سادھا سا ہندو جب مسلمان ہو جاتا ہے تو دنگی، فسادی اور لڑاکا ہو جاتا ہے۔ دنگئی تو وہ ہو جائے گا جب اسے اپنے نظریے کی پاسبانی کرنا پڑے گی ۔ دنگئی تو وہ ہو جائے گا ، جب ناموس رسالت ﷺ پر خدانخواستہ حرف آئے گا ۔ دنگئی تو لازمی ہو گا کہ جب وہ وحدہ لاشریک کی شان میں کوئی غیر قوم کا فرد گستاخی کا مرتکب ہوگا۔ قرآن پاک پر رکیک حملوں کا جواب تو پھر وہ پنی جان پر کھیل کر دے گا اور شہادت کے مقام اولیٰ کو مسکراتے ہوئے حاصل کرنا قاپنا دینی اور اسلامی فریضہ سمجھے گا۔ یہی وہ جذبہ اسلام ہے ، یہی وہ قرآنی برکت ہے یہی وہ دو قومی نظریے کی بنیا د ہے۔ یہی دوقومی نظریہ اپنی روقحانی معنویت اور اسلامی قومی نظریات و تصور کی شکل میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے نظرۂ پاکستان کی شکل میں نمودار ہوا۔ پاکستان کی تخلیق میں لاکھوں اسلامیان ہند نے شہادتوں کا خون عطا کیا لاکھوں مسلمان عورتوں اور بچون نے قربانیاں دیں ، پاکستان کو انگریزوں اور ہندوں نے آسانی سے قبول نہیں کیا تھا۔ پاکستان انگریز نے طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کیا تھا ۔ تقسیم ہند نہ انگریزی بادشاہت کو پسند نہ تھی ، نہ برطانوی پارلیمنٹ ، نہ برطانوی حکومت ہند، نہ وائسرائے صاحبان ، نہ انڈین نیشنل کانگریس ، نہ مسٹر گاندھی ، نہرو پٹیل اور راجگو پال اچاریہ وغیرہ، لارڈ مونٹ بیٹن جو آخری وائسرائے ہند تھا۔ اسے تقسیم ہند سے ویسے ہی چڑ تھی۔ جمیعت العلمائے ہند کی اکثریت مخالف چند اور اسلام پسند گروہ بھی قائداعظم ؒ پر رکیک حملوں سے باز نہ آرہے تھے۔ اکثر مسلمان اکابرین جو کانگریس کے متاثرین میں سے تھے یہ تقسیم پسند نہیں فرما رہے تھے جن میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی خاص طور پر شامل تھے۔ یہ حضرت قائد اعظم ؒ کی سیاسی صداقت اور ولولہ انگیز قیادت اور مومنانہ شان و شوکت کا اعجاز تھا کہ بڑے بڑے برج گرتے چلے گئے بڑے بڑے طوفان اپنی اپنی راہ لیتے رہے بڑے بڑے پہاڑ چکنا چور ہو جاتے رہے۔ اور وہ سرحدیں قیام پزیر ہوئیں جنھوں نے معرکہ بدرو حنین کی یاد دتازہ کردی ۔ یہ سرحدیں کچے دھاگے کی سرحدیں نہیں یہ اینٹوں گارے ، سیمنٹ اور ماربل کی بنائی ہوئی دیوار نہیں ’’ لاالہٰ الاللہ محمد الرسول اللہ‘‘ کے اسلامی اور قرآنی نظریے اور ایمان پر قائم کردہ دیواریں ہیں ۔ جو قیامت تک قائم رہیں گی، حضرت قائداعظم ؒ نے اسی لیے قیام پاکستان کے بعد 30 اکتوبر 1947ء ؁ کو فرمایا تھا ہم نے پاکستان حاصل کر لیا کسی خونی جنگ کے بغیر امن کے ساتھ اخلاقی اور ذہنی قوت کے بل بوتے ، پر یوں ہم نے ثابت کر دکھایا کہ ہم سچے اور ہمارہ مقصد بھی سچا تھا ، پاکستان اب ایک قطعی اور اٹل حقیقت ہے اسے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ یہاں سبق مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذکر بے جانہ ہوگا، جب اندرا گاندھی (وزیر اعظم بھارت) نے یہ بیان بڑے فخر وتکبر اور فتح کے نشے میں دیا کہ آج ہم نے قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا اور ٓج ہم نے ہزار سال کا بدلہ لے لیا۔ اب توجہ توجہ طلب مسئلہ یہ ہے کہ کدس نے کس سے یہ بدلہ لیا اور خلیج میں ڈبو دیا ، سگر ہم یہ کہیں کہ اندرا گاندھ نے کتنی غیر منظقانہ معصومیت مین بیان داغا تھا اس قابل رحم خاتون کو معلوم ہی نہیں کہ دو قومی نظریہ اور نظرۂ پاکستان کے اصل مفاہیم و مطالب اور ابدی توجیہات و تفاسیر کیا ہیں اسلام اور قرآن کی روشنی میں اگر ایک مسلمان بچہ بھی برصغیر میں زندہ ہے تو دو قومی نظریہ اپنی کامل جولانیوں کے ساتھ موجود ہے ، نظرۂ پاکستان مکمل طور پر قائم ہے۔ اسلام کا جھنڈا موجود ہے۔ اگر نظرۂ پاکستان اپنی اصلی اور ازلی حقائق کے نقطہ نظر سے مقصود ہو گیا ہوتا تو بنگلہ دیش جسے آج ہم سابق مشرقی پاکستان کہتے ہیں ہندوستان کا کوئی با جگر حصہ بن چکا ہوتا ، لیکن ایسا ایسا نہیں ہوا وہ پاکستانی حضرات جنہیں پاکستان نے اعلیٰ ترین مقام سیاست و قیاست پر متمکن کر رکھا اب جلوہ افوذ ہیں ، ثولیدہ ، نظریاتی علم سے عاری ، تحرک پاکستان کے دلدوز لمحات و واقعات سے ناواقف ، حضرت قائداعظم ؒ اور حضرت علامہ اقبال ؒ سے بغض ، کینہ اور نفرت رکھنے والے ایسے قابل تعظیم افراد پاکستان کی کیا خدمت کر رہے ہو نگے اور جنہیں باقلخصوص قیامت کے روز حضرت قائد اعظم ؒ کے حضور کیا جوابدہی دینا ہو گی۔ جو نظریہ پاکستان اور تخلیق پاکستان کے بارے میں مشکوک الایمان اور متزلزل عقائد کے علمبردار ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑی اور کوئی بد قسمتی نہیں ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ پاکستان مشیت ازادی ہے، اور حضرت قائد اعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ سات سات ولیوں کی قوت ایمانی والی شخصیات تھیں ۔ اگر پاکستانی دانشور ان کرام، اساتذہ کرام طلبہ و طالبات کبھی ٹھندے دل سے غور فرمائیں کہ مشرقی ہپاکستان کی علیحدگی میں اہم کردار ادا کرنے والوں کا کیا حشر ہوا وہ پاک و ہند کی سیاسی اور قومی تاریخ کسے ابواب میں قیامت تک کھڑے عبرت نشان عبرت بن کر رہ گئے۔ اندرا گاندھی کا یہ حشر ہوا کہ اسے سپنے باڈی گارڈ نے گولیوں سے اڑا دیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو اپنی ہم قوم فوج کے افسران نے گولیوں سے اْڑا دیا۔

Thursday, 2 July 2015

PROTECTION OF PAKISTAN ACT.2014 Use of armed forces and civil armed forces to prevent scheduled offences written by ASHRAF ASMI ADVOCATE HIGH COURT


PROTECTION OF PAKISTAN ACT.2014
Use of armed forces and civil armed forces to prevent scheduled offences
ASHRAF ASMI ADVOCATE HIGH COURT

(1)Any police officer not below BS -15 or member of the armed forces or who is present or deployed in any area may , on reasonable  apprehension of commission of a scheduled offence after giving sufficient warning ,use necessary force to prevent the commission of a scheduled offence and in so doing shall ,in the case of an officer of the armed forces ,exercise all the power of a police officer under the code .
(2) In particular and without prejudice to generality of sub-section (1) an officer of the police not below BS -15 or member of the armed forces of civil armed forces in the above situation may ……..
(a) after giving prior  warning use such force as may be deemed necessary or appropriate keeping  in view all the facts and circumstances of the situation ,against any person who is committing or in all probability is likely to commit a scheduled offence ,it shall be lawful for any such officer after forming reasonable apprehension that that death or grievous hurt may be caused by such act ,to fir ,or order the firing upon any person or persons against whom he is authorized to use force in terms hereof …
Provided that the decision to fire order firing shall be take only be way of last resort. and shall in no case extend to the inflicting of more harm than is necessary to prevent the scheduled offence which has given rise to the reasonable apprehension of death or grievous hurt.
Provided further that all cases of firing which have resulted in death or grievous hurt shall be reviewed in an internal inquiry conducted by a person appointed by the head of the concerned law enforcement agency .
Provided further that all cases  of firing which have resulted in death may ,if the facts and circumstance so warrant ,be also reviewed in a judicial inquiry conducted by a person appointed by the federal Government .
Explanation ..--- Reasonable  apprehension that death or grievous hurt may be caused may ,inter ,alia ,be based on the following ground ,namely .-----
(i)Credible prior information about a person ,who is identified site or is suspected to be that person and such person either attempts to resist arrest by force  or refuses a command to surrender and his action may lead to grievous hurt or death .
(ii) prior information but without any clear identification of individual; (S) in an area  who may have been or are going to be involved  in the planning ,commission  of financing of a scheduled offence to carry out action as mentioned in paragraph (i) above.
(iii)appreciation of circumstances on the scene that a person can cause harm and the situation may lead to grievous hurt or,a judgment based on events or a sequence of events (s) on site ….
(iv) threatening movement of a person who is in possession of a fiream  or reaching for a fiream ,to target  law enforcing  personnel or a member  of the public which may lead to grievous hurt or  death ,or ..
(v) prior  information or a judgment on sit that the person may cause to signal or personally trigger an explosion which can cause harm or a person assisting in commission of a such a crime that may lead to grievous hurt  or death .
(b) arrest ,without warrant any person who has committed a scheduled offence or against whom a reasonable suspicion or credible information  exists  that he has committed ,or is about to commit any such act or offence ,and
(c) enter and search ,without warrant any premises to make any arrest or to take possession of any fire-arm ,explosive weapon ,vehicle ,instrument or article used ,or likely to be used and capable of being used in the commission of any scheduled offence .
Provided  that after the search ,the circumstance justifying it and the items recovered shall be reported within two days to Special judicial Magistrate of the area by the officer conducting the search .
(3) Noting contained in sub –section (1) or sub –section (2) shall affect the provision  of chapter ix  of the code and the provision of section 132 of the Code shall apply to any person acting under this section .
4.Application of Code .—The provision of the code In so far as they are not inconsistent with this Act shall be applicable thereto .
5. Investigations.---(1) All the scheduled offences shall be cognizable and non-bailable..
(2) All scheduled offences  ,where armed forces /Civil  armed forces  are acting in aid of civil authority ,shall be inquire into and investigated by a joint investigation team comprising of one gazzetted  police officer and two officers from the armed forces/civil armed forces . the joint investigation team shall be headed by the police officer as aforesaid .
(3) Whenever a person is arrested or detained in custody under clause(b) or clause (C) of sub-section (2) of section 3 and it appears  that the inquire or investigation cannot be completed within the period of twenty-four hours ,the head of joint investigation  Team or any other officer acting under him, excluding the time necessary for journey from the place of arrest of detention to the court shall produce him before a Special judicial Magistrate and may apply for remand of the accused to the custody of the police or custody of any other investigation agency .
(4)A Special judicial Magistrate may remand the accused from time to time .in such custody as such Special judicial Magistrate think fit for a term not exceeding sixty days.Provide that the Special judicial Magistrate shall not remand an accused person to custody under this section for a period exceeding fifteen days at a time .
Provided further that all such reports requesting for further  custody of the accused shall be submitted through the Public prosecutor.
………………………………………………………………………………………………………………………..

WRITER IS PRACTISING LAWYER AT LAHORE HIGH COURT,CO-CHAIRMAN HUMAN RIGHTS COMMITTEE LAHORE HIGH COURT BAR 2015-2016, WRITER OF LAW BOOK , RULE OF LAW, MEN KI DUNEA KI JEET& WRITES COLUMNS IN URDU AND ENGLISH NESPARERS & JOURNALS  OF NATIONAL AND INTERNATIONAL.