Sunday, 31 May 2015

RULE OF LAW.................................. A BOOK BY ASHRAF ASMI ADVOCATE HIGH COURT: پولیس کی کارکردگی اور ذ مہ داریوں کے حوالے سے انسا...

RULE OF LAW.................................. A BOOK BY ASHRAF ASMI ADVOCATE HIGH COURT: پولیس کی کارکردگی اور ذ مہ داریوں کے حوالے سے انسا...:        پولیس کی کارکردگی اور ذ مہ داریوں کے حوالے سے انسانی حقوق فرنٹ انٹرنیشنل کے سربراہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی سروئے رپو...

پولیس کی کارکردگی اور ذ مہ داریوں کے حوالے سے انسانی حقوق فرنٹ انٹرنیشنل کے سربراہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی سروئے رپورٹ 2015 جس میں سانحہ ڈسکہ جیسے سانحات کی وجوہات پر خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے۔POLICE SURVEY REPORT 2015, SURVEY CONDUCTED BY ASHRAF ASMI ADVOCATE HUMAN RIGHTS ACTIVIST

    

 پولیس کی کارکردگی اور ذ مہ داریوں کے حوالے سے انسانی حقوق فرنٹ انٹرنیشنل کے سربراہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی سروئے رپورٹ 2015 جس میں سانحہ ڈسکہ جیسے سانحات کی وجوہات پر خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے۔

لاہور ( خصوصی سروئے رپورٹ) انسانی حقوق فرنٹ انٹرنیشنل کے سربراہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے انسانی حقوق فرنٹ انٹرنیشنل کے تھنک ٹینک کی جانب سے تیار کردہ سروئے رپورٹ بابت پولیس کی کاردگی اور ذمہ داریاں میڈیا کے لیے جاری کردی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور پولیس کے افسر اور نوجوان اپنی جانوں کا نذرانہ مادر وطن پر نچھاور کر رہے ہیں اِس لیے پولیس کی قربانیوں کے حوالے سے کوئی دو آراء نہیں ہیں لیکن انوسٹی گیشن کے شعبے کی کارکردگی سب کے سامنے ہے کہ ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنادیا جاتا ہے اِسی طرح پولیس کی جانب سے ملزمان کے خلاف شواہد پیش نہ ہو پانے کیس کی پیروی نہ کرنا اِس سے بھی عدالتوں کو پھر شواہد اور حالات و واقعات کی روشنی میں ملزمان کو رہا کرنا پڑتا ہے الزام عدلیہ پر دھر دیا جاتا ہے کہ عدلیہ کا قصور ہے۔کہ اگر حکومتوں کے تمام ادارئے بہتر انداز میں کام نہ کر رہے ہوں تو اُس کا بوجھ بھی عدلیہ کو ہی اُٹھانا پڑتا ہے۔پولیس کے جواں شیر ایس پی چوہدری اسلم شھید نے کراچی میں دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کی اِس طرح کے بہت سی مثالیں ہیں ۔ اِس رپورٹ کا مقصد یہ نہیں کہ پولیس کو بُرا بھلا کہا جائے بات صرف اتنی ہے کہ ہر شعبے میں اچھے اور بُرئے لوگ ہوتے ہیں۔لیکن پولیس کے حوالے سے شکایات زبان زدِ عام ہیں ۔ پولیس کی ذمہ د اری کسی بھی معا شرے میں امن وامان قائم رکھنا ہے۔ معاشرے کے مجبور طبقات کی مدد کرنا۔باثر افراد کی چیرہ دستیوں سے مظلوم اہر بے کس افراد کو بچانا۔ پولیس در حقیقت ریاست کی طرف سے ایک ایسے کام پر مامور ہے جس طرح اللہ پاک فرشتوں کو اپنی مخلوق کی مدد کے لیے بھیجتا ہے۔ سروئے رپورٹ کے مطابق ترقی پزیر ممالک اور پسماندہ ملک جن میں پاکستان، بھارت،برما،بنگلہ دیش بھی شامل ہیں میں پولیس کا کردار مہزب معاشرہ کی نفی کرتا ہے ۔جاگیردار نہ سوچ وڑیرہ شاہی سرمایہ دارانہ ذھینیت یہ سب کچھ جس معاشرے میں ہو وہاں پولیس نام کی فورس فرشتوں جیسا نہیں بلکہ ظالموں کا روپ دھار لیتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ عجیب طرح کی کشکمش سے دوچار رہتا ہے۔سیاست دان اپنی مر ضی ومنشاء سے اپنے علاقے کا تھا نیدار فقرر کرواتے ہیں۔ پولیس کومظلوم کی مدد کی بجائے با اثر امداد اپنے منحالفین کا ناطقہ بند کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کا رویہ عام ہے۔ کہیں ذات پات رنگ ونسل کے مسائل ہیں اور کہیں فرقہ وارنہ ہم آہنگی کی کمی ہے۔لیکن پولیس کے لیے ایک بہت برا ٹاسک یہ ہے کہ قبضہ گرویوں کی ہمنوائی کرنا۔ جائیدار کے جھگڑوں میں پولیس کا کردار یہ ہے کہ جس شخص نے زیادہ مال دے دیا پولیس اُسکا ساتھ دینا اپنا فرض منصبی سمجھتی ہے۔ گویا قدر انسانیت کی نہیں قدرتو دولت کی ہے۔ پولیس کے رویے کے حوالے سے اخلاقیات اور انسانی اقرار جیسے الفاظ عجیب طرح کے رویے کے متقاضی ہیں۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہماری سوسائٹی پولیس کی غنڈہ گردی کے زیرعتاب ہے۔ سروئے رپورٹ کے مطابق محاظ کا لفظ پولیس اپنے لیے استعمال کرکے عملی طور پر جس طرح سے عوام کے سا تھ وحشیانہ اور درندوں والا سلوک کیا جاتا ہے اُسکے بعر لفظ محافظ لفظ راہزن کا مترادف بنتا ہوا دیکھائی دیتا ہے۔ معاشرے جب ارتقائی سفر میں ہوتے ہیں تو بلاشبہ بہت سے مسائل اور دُشواریاں پیش آتی ہیں لی۔ پولیس کا محکمہ حقیقت میں خادم ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ اِس حوالے سے برطانیہ ،امریکہ ،یورپ کی مشالیں سامنے ہے۔ گویا جہاں معاشی آسودگی ہے وہاں سکھ اور چین بھی ہے۔ اور اُن معاشروں میں پولیس بھی انسانیت کے دائرے میں رہ کر انسانوں سے انسانوں جیسا سلوک کرتی ہے۔ بے چین،معاشی نا ہموار یوں سے مزین سوسائٹی میں پھر انڈر ورلڈ اپنی مثال آپ بن جاتی ہے۔ سروئے رپورٹ کے مطابق منشیات منی لانڈرنگ ، انسانی سمگلنگ سب کچھ عام ہوتا ہے۔ پو لیس تو فقط ان گینگسٹرز کی حا شیہ بردار ہوتی ہے اور ان ما فیاز کے لیے ٹاوٹ کا کردار ادا کرتی ہے۔سرکا ر کے ساتھ ساتھ ان ما فیاز سے بھی اپنی خدمات کا عوضانہ ما ہا نہ بنیادوں پر وصول کرتی ہے۔ کرپشن عا م ہے۔ اس وطن میں اب جسم فروشی بھی انھیں قانون کے محافضوں کی سرپرستی میں با قاعدہ ایک پروفیشن بن چکی ہے۔ کرپشن عام ہے انصاف بکتا ہے۔ ڈ گریو ں کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ انسانی اعضاء کی تجارت ہوتی ہے۔اس ملک کا حکمران طبقہ پارلیمینٹ کو ربڑ سٹیمپ سمجھتا ہے ۔جس معاشرے میں بیشتر عوامی نمائیندے پارساء نیک نہ ہو بلکہ پرلے درجے کے بدکردار ،عیا ش لٹیرے ہوں رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے پارلیمنٹ میں شراب و دیگر خرافات کی جانب جب توجہ دلائی تو تھوڑی دیر کے لیے ارتعاش پیدا ہوا لعن طعن کی گئی بعد میں پھر خاموشی ۔ جس سوسائٹی کے سیاست دان جعلی ڈگریوں کے حامل ہوں اس سو سائٹی میں پھر پو لیس فریشتوں جیسی صفات کی حامل کیسے ہو سکتی ہے۔ جیسی سوسائٹی ویسے حکمران اُسی طرح کے سماجی رویے۔ ان حا لات میں پولیس نے ان مگر مچھوں کی ہی وفا داری کرنی ہے خدائی خدمت گزار نہیں بننا۔ اس پولیس کے لیے شرافت، دیانت کتابی باتیں ہیں۔ پولیس آرڈر 2002 ء میں پو لیس کو جو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں اُن پر عمل پیرا ہو کر معاشرے میں امن و سکون قائم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اب ہم اصل حقیقت کی طرف آتے ہیں وہ یہ کہ پو لیس کو دباو میں رکھنے کے لیے اتنے گروہ سرگرمِِِِِِِِ عمل ہیں کہ پولیس چاہے بھی تو اِن ذ مہ داریوں کو ادا کرنے سے قاصر ہے۔ موجودہ پولیس آرڈر میں پولیس کی مندرجہ ذیل ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔ سیکشن3پولیس آرڈر 2002 میں عوام سے پولیس کے رویے کے حوالے سے 4 باتوں کا ذکر ہے۔ (a) یہ کہ عوام کے ساتھ شائستگی اور عزت سے پیش آنا ۔(b) عوام کے سا تھ دوستانہ رشتہ قائم کرنا۔(c)ایسے مجبور افراد یا بچے جو کمزور ولاغر ہیں یا غریب ہیں یا معذور ہیں اُن کی مدد کرنا اگر پبلک مقامات پر یا گلیوں میں جسمانی معذور یا چھوٹے بچے بے یا رومدگار ملیں تو اُن کی مدد کرنا۔(d)بچوں اور خواتین کو مدد بہم پہنچانا خاص طور پر جب وہ خطرے میں ہوں ۔سیکشن 4 سب سیکشن (1) پولیس آدڑد2002کے مطابق پولیس کے فرائض میں شا مل ہے ۔(a)شہریوں کی آزادی ، جا ئیداد اورجان کی حفاظت کرنا ۔(b) عوامی سطح پر امن وامان قائم رکھنا۔ (c)ایساشخص جوپولیس کی custodyمیں ہو اُسکے حقوق اور سہولیات کا قانون کے مطابق خیال رکھنا۔((d جرائم کو روکنا اور عوامی تکا لیف کا اعادہ نہ ہونے دینا۔ ((e عوامی حوالے سے امن و اما ن کے لیے انٹیلی جنس معلومات حا صل کرنا اور ان معلو ما ت کا تبادلہ کرنا۔ ((f پبلک مقا ما ت ، عبا دت گا ہوں گلیوں بازاروں سڑکوں میں رکاوٹیں پیدا اہونے سے روکنااور عام شاہرا ہوں پر رکاوٹیں نہ ڈالنے دینا۔(g)گلیوں اور سڑکوں پر ٹریفک کو کنڑول کرنااوراِسکے بہاؤ کوممکن بنانا۔(h)لاوارث جائیداد واشیاء کوقبضے میں لینا اوراِس کا ریکارڈرکھنا ۔(i)مجرموں کوتلا ش کرکے انصاف کے کہٹرے میں لانا۔(j)اُن افراد کو گر فتار کر نا جن کو گرفتا ر کرنے کا پولیس کو حق ہے۔ اور اُن کی گرفتاری قابلِ وجہ بھی ہونی چاہیے۔ ((k جس شخص کو گرفتار کیا گیا ہو وہ اپنی گرفتاری کی بابت کسی کو اطلاع کر نا چاہتا ہے تو پولیس کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ متعلقہ شخص تک اطلاع پہنچنی چاہیے۔ (l) پو لیس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی پبلک مقام، دکان وغیرہ کو بغیر ورانٹ چیک کر سکتی ہے جس کے متعلق یہ قابلِ اعتماد اطلاعات ہو ں کہ اِن مقامات پر شراب یا منشات پے گاتی ہیں یا فروخت ہوتی ہیںیا اسلحہ کا ذخیرہ غیر قانونی طور پر کہیں موجود ہے۔ (M) تمام قانونی ا حکا ما ت کو ماننا اور اُن پر عمل درآمد کروانا۔ (N) قانون کے دائرے میں رہ کر وقتی طور پر کوئی بھی حکم دیا جائے اُس کی بجاآوری پولیس کا فرض ہے۔(O ) قدرتی آفات سے تباہی یا تشدد وغیرہ سے پبلک پراپرٹی کو بچانے کے لیے مدد فراہم کرنا۔ (P )عوام کو کسی بھی ادارے یا گروپ کے استحصال و دھوکہ دھی سے بچانا۔ (Q ) معاشرے کے ذہنی طور پر معذور افراد کے جان جان و مال کی حفاظت کرنا۔(R ) پبلک مقامات پر عورتوں اور بچوں کو ہراساں ہونے سے بچانا۔سب سیکشن 2 سیکشن 4 کے مطابق (a) پولیس آفیسر ہنگامی صورتحال میں خواتین اور بچوں کی مدد کرے گا (b) سڑک پر ایکسڈ ینٹ کے شکار لوگوں کی مدد کرنا۔ (c) حادثات میں متا ثرہ افراد اور اُن کے لواحقین کو مدد فراہم کرنا اور ایسی ہر اطلاع دینا جس سے اُن کی مدد ہو سکے اور معاوضے کے کلیم کرنے میں اُن سے تعاون کرنا۔(d) سڑک پر حادثات سے متاثرہ افراد کو اُن کے حقوق اور سہو لیات کے بارے میں آگاہی دینا۔سیکشن 4 سب سیکشن 3پولیس آردڑ 2002 کے مطابق پولیس آفیسر کا فرض ہے کہ اگر اُس کے علم کوئی ایسا شخص ہے جو کہ کسی جرم میں ملوث ہے تو وہ پولیس آفیسر اِس کی اطلاع مجاز عدالت کو دے گا اور قانون کے مطابق ورانٹ، سرچ وارنٹ ، سمن وغیرہ کے لیے عدالت میں درخواست گزار ہو گا۔ پولیس چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال نہیں کر سکتی۔ پی ایل جے 2006 لاہور 721 کے مطابق سیکشن 4 سب سیکشن 10 کے مطابق پولیس کو بغیر وارنٹ قابلِ اعتماد اطلاعات کی بناء پر کسی بھی پبلک مقام پر داخل ہونے کا حق حاصل ہے۔ لیکن اس اختیار کا مطلب یہ نھیں کہ نجی احاطے یا گھر میں پولیس داخل ہو سکتی ہے۔سیکشن 5 سب سیکشن 1 کے مطابق حکومت سرکاری گزٹ میں اگر کوئی ہنگامی نوٹیفکیشن جاری کرکے پولیس کو خاص ٹاسک انجام دینے کا کہتی ہے۔ جو کہ معاشرے کے افراد کے لیے ضروری عمل ہو پولیس اُس حکم کو مانے گئی۔ سیکشن 5 سب سیکشن 2 کے مطابق کلاز(1) کے حکم کے مطابق ایمرجنسی حالات میں پولیس اپنے سینئر پولیس آفیسر کاحکم مانے گی۔ سروئے رپورٹ کے مطابق سیکشن چار اور سیکشن پانچ پولیس آرڈر الفاظ کی حد تک تو انتہائی ُ پرمغز اور امید افزاء ہیں لیکن جب اس تھیوری کو عملی حالت میں دیکھا جاتا ہے تو یہ بات محسوس ہوتی ہے یہ سب کچھ اس سوسائٹی میں قابلِ عمل نہیں ہے۔ جب پولیس نے اپنے فرا ئض کی ادائیگی پریشر میں کرنی ہے اور جب ہر ایم این اے اور ایم پی اے تھانیدار کو اپنی انا کے اشاروں پر نچاتا ہے تو امن و امان کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ رب پاک کو حاضر و نا ضر جان کر اگر ہم خود سے یہ سوال کریں کہ کیا کسی شریف النفس انسان کا موجودہ دور میں اسمبلی کا ممبر بننا ممکن ہے تو اِسکا جواب منفی میں ہونے کے ساتھ ساتھ ہے یہ بھی ہوگا کہ شریف آدمی نہ تو الیکشن لڑ سکتا ہے اور نہ ہی جیت سکتا ہے۔ہمارے معاشرے میں تھانے اور کچہری کی سیاست ہوتی ہے۔ کسی کو گرفتار کروادیا کسی کو مروادیا اور کسی کو علاقے سے ہی غائب کروادیاجنگل کا قانون تو پھر بھی کوئی معانی رکھتا ہے جہاں درندے ، پرندے ہزاروں سالوں سے بس رہے ہیں۔ ہماری سوسائٹی میں طاقت کا استمعال ،اقرباپروری اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں عوامی نمائندے کیسے ہوں گے ؟ جیسا ماحول بن چکا ہے ادھر تو شرافت، دیانت امانت سب کچھ منافقت میں ڈھل چکا ہے۔صرف چند ہزار انسانوں نے پوری قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اِن حا لات میں پولیس امن و امان کیسے قائم رکھے جب عوامی نمائندے وزیر ،مشیر سرمایہ دار وڈیرے پولیس کو اپنی من مانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سروئے رپورٹ کے مطابق ماضی میں سندھ اسمبلی کے ایک ضمنی الیکشن میں حکومتی پاڑتی کی ایک خاتون امیدوار نے پولیس آفیسر کے سامنے خاتون پریزائیڈانگ آفیسر کو تھپڑ مارے اور ڈی ایس پی صاحب باادب ہو کر سارا تماشا دیکھتا رہے۔ یہ ہے وہ پولیس جس نے عوام کو غنڈوں کی چیرہ دستیوں اور ظلم سے بچانا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں میڈیا کے فعال کردار نے کافی حد تک آگاہی دی ہے۔ لیکن حزب اقتدار ہو یا حزب مخالف، اقتدار میں رہنے کے لیے منشیات فروشوں اور قبضہ گروپوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ وہ بھاری رقوم خرچ کرکے آئے ہیں اس لیے ہر طریقے سے رقم کماتے ہیں۔ باقاعدہ غنڈے پال رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں وکلاء، سول سوسائٹی اور عدلیہ ہی امید کی کرن ہیں کہ شائد ہمارہ معاشرہ کبھی گدِھوں سے نجات حاصل کرسکے۔ تھانے بکتے ہیں ماہانہ بنیادوں پر رقوم اکھٹی ہوتی ہیں۔کتابوں میں لکھے اخلاقیات اور مذہب کے ا منوآشتی کے اسباق کہیں دور اندھیرے میں دبکے ہوئے ہیں۔عمر ساری تو اندھیرے میں کٹ نہیں سکتی روشنی کے حصول کے لیے ابھی لمبا سفر درپیش ہے۔ تعلیم ،امن ،صحت، روزگار سماجی انصاف معاشرے کو امنوآشتی کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔نبی پاکﷺ کا فرمانِ عالیٰ شان ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ نہیں۔قصور پولیس کا نہیں بلکہ اِس کو کرپٹ کرنے والوں کا ہے جو پولیس کو دباؤ میں رکھ کر اُس سے ہرناجائز کام کرواتے ہیں جب پولیس سے حکمران ہی ناجائز کام کروائیں گے تو پھر پولیس کیسے قانون کی پابندی کرئے گی۔سروئے رپورٹ کی کاپیاں وزیر اعظم پاکستان ایمنستی انٹنیشنل، وفاقی وزارت قانون، ہیومن رائٹس واچ، صوبائی وزراء اعلیٰ تمام صوبوں کے آئی جی صاحبان، چیف جسٹس آف پاکستان اور چاروں صوبائی چیف جسٹس صاحبان و صدر و زیراعظم آزاد کشمیر و چیف جسٹس آزا د جموں کشمیر کو بھی بھجودی گئی ہیں۔سروئے رپورٹس کی تیاری میں پاکستانی میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، فاضل جج صاحبان کی مقدمات کی سماعت کے دوران آبزرویشن کو بنیاد بنایا گیا۔

Tuesday, 19 May 2015

انسانی حقوق کے علمبردار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی کتاب قانون کی حاکمیت شائع ہوگئی میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ انسانی حقوق فرنٹ انٹرنیشنل کے سربراہ اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جیل اینڈ ریفارم کمیٹی پنجاب کے وائس چےئرمین ہیں۔آپ TxDLA آف امریکہ کے ایسوسی ایٹ ممبر بھی ہیں bookruleoflaw.blogspot.com اِس لنک پر کتاب کو پڑھا جاسکتا ہے

 انسانی حقوق کے علمبردار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

 کی کتاب قانون کی حاکمیت شائع ہوگئی

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ انسانی حقوق فرنٹ انٹرنیشنل کے سربراہ اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جیل اینڈ ریفارم کمیٹی پنجاب کے وائس چےئرمین ہیں۔آپ TxDLA آف امریکہ کے ایسوسی ایٹ ممبر بھی ہیں
bookruleoflaw.blogspot.com اِس لنک پر کتاب کو پڑھا جاسکتا ہے


لاہور۔قانون کے طالب علم ہونے کے ناطے اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کے تجربات پر مبنی مشاہدات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرتے ہوئے سوشل میڈیا گوگل پر ای بُک کے طور پر شائع کیا گیا۔اِس الیکٹرانک بُک کو دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر پڑھا جاسکتا ہے۔اِس کتاب میں ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے حامل آرٹیکلز شامل ہیں یہ وہ آرٹیکلز ہیں جو کہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے آئین اور قانونی معاملات کے حوالے سے تحریر کیے ہیں۔یہ قانونی مضامین ملکی و غیر ملکی میڈیا ویب پر بھی دستیاب ہیں۔اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے انسانی آزادیوں کے حوالے سے پاکستانی آئین اور بین الاقوامی قانون کے مضامین میں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے مختلف موضوعات پر قلم اُٹھایا ہے۔ انسانی تمدن کے ساتھ ہی ارتقاء کے سفر پر جاری قانون کے سفر نے بھی اپنے سفر کا آغاز کیا۔ حالات و واقعات کی بناء پر اصول ضابطے بنائے گئے تاکہ ان پر عمل پیرا ہوکر ریاست اور شہری اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنا کردار ادا کریں۔مقننہ اور انتظامیہ کا کردار بھی قانون کی تشکیل اور اُس پر عملداری کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے بہت آسان اور دقیع موضوعات پر لکھا ہے جن کا تعلق برارہ راست سماج کے ساتھ ہے۔ اِس لیے اشرف عاصمی ایڈوو کیٹ نے صرف الفاظ کا مُرقع ہی ترتیب نہیں دیا بلکہ ایک ایک لفظ سماج میں پھیلی اونچ نیچ کے خلاف ایک توانا آواز ہے۔ اِس لیے اشرف عاصمی نے خاندانی نظام کے حوالے سے گہرئے مشا ہدات پر مبنی بین الاقوامی قوانین برائے شادی اور طلاق پر ایک تحقیقی مضمون لکھا ہے جس میں امریکہ، جاپان، برطانیہ، انڈیا، پاکستان ،کینیڈا، ڈنمارک پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں رائج الوقت عائلی قوانین کا احاطہ کیا گیا ہے۔اِسی طرح معاشرئے میں جرائم ہونے اور بڑھنے کی وجوہات پر مبنی ایک مضمون جو کہ تقریباً کریمنالوجی کی5200 ریسرچز کی بنیاد پر لکھا گیا ہے جس میں عمرانی ، معاشی، سماجی ،مذہبی، جغرافیائی حالات و واقعات کی روشنی میں جرائم ہونے اور کم یا زیادہ ہونے کے نفسِ مضمون پر ایک خالص عملی بحث کی گئی ہے۔کرسچین میرج ایکٹ1872 جو کہ اِس وقت وطنِ عزیز میں رائج ہے اُس حوالے سے اردو زبان میں پہلی مرتبہ ایک بھرپور علمی مقالہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی کاوش ہے۔ فوجداری قوانین کے حوالے سے بھی ہارڈینڈ کریمنل کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کورٹس کے فیصلہ جات کی بنیاد پر ہارڈینڈ کریمنل کے موضوع پر قلم اُٹھایا گیا ہے۔ گویا سماجی رویوں میں تبدیلی کے محرکات قوانین کو بھی ایک جگہ اکھٹا کیا گیا ہے۔ پولیس آرڈر کے اثرات پر تفصیلی بحت کا حامل ایک مضمون بھی اِس الیکٹرانک کتاب کی زینت ہے۔ تعلیمی نظام میں اونچ نیچ آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے اِس پر تفصیلی مضمون بھی لکھا گیا ہے جس میں سرکاری سکولوں سے لے کر ایچی سن، شوئیفات،ایل جی ایس جیسے تعلیمی اداروں اور پرائیوٹ یونیورسٹیوں کے معاشرئے پر اثرات کوسمویا گیا ہے۔غرض یہ کہ خالص قانونی معاملات پر بہت سے مضامین اردو اور انگریزی زبانوں میں لکھے ہیں اور اشرف عاصمی یہ مضامین باقاعدگی سے وکلاء اور ججز کو بھی پیش کرتے ہیں تاکہ اُن سے اِس حوالے سے فیڈ بیک لیا جاسکے۔اشرف عاصمی چونکہ انسانی حقوق کے علمبردار ہیں اِس لیے ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے میں رہتے ہیں اور اِس حوالے ہر وقت اپنے آپ کو تیاررکھتے ہیں۔اشرف عاصمی ایڈووکیٹ انسانی حقوق کمیٹی لاہور بار ایسوسی ایشن، وا ئس چےئرمین جیل اینڈ پرزن کمیٹی پنجاب لاہور ہائی کورٹ باررہ چکے ہیں۔ اشرف عاصمی TxDLA آف امریکہ کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔حال ہی میں اُنھیں الحمرادبی بیٹھک لاہور میں منعقدہ ایک اجلاس میں سید ایاز مفتی مرحوام ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اشرف عاصمی انسانی حقوق فرنٹ انٹرنیشنل کے سربراہ ہیں اور خواجہ باسط وحید لاء ایسوسی ایٹس کے ساتھ بطور ایسوسی ایٹ ممبر منسلک ہیں۔اشرف عاصمی TxDLA آف امریکہ کے 1998 سے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔اِس لنک پر کتاب کو پڑھا جاسکتا ہے۔bookruleoflaw.blogspot.com