Saturday, 4 April 2015

زندگی .....................اشرف عاصمی کے قلم سےWHAT IS LIFE.. ASHRAF ASMI WRITES ABOUT IT.

زندگی

اشرف عاصمی کے قلم سے

 پھول کی کو نپلیں جب صبح سویرئے شبنم کے قطروں سے وضو کرتی ہیں تو اپنے رب کی شان میں رطب للسان ہوتی ہیں۔ کوئل کی من بھاتی آواز ترنم سے فطرت کی تعریف و توصیف کرتی ہے۔صبح صادق کے وقت ہل چلاتے بیل کے گلے کے گھنگروں کی آواز رب کی مدح کرتی ہے تو زندگی مسکرانے لگتی ہے اور رب کی اِس کائنات میں محبتوں اور خلوص کا کارواں رواں دواں رہتا ہے۔زندگی وفا کا دوسرا نام ہے ۔زندگی ہی رب کی پہچان کا سبب ہے۔ زندگی میں درپیش نشیب وفراز زندہ ہونے کی علامت ہیں۔ زندگی ماں کی گود، زندگی دادی اماں کی لوری زندگی باپ کا پیار زندگی بہن کی عقیدت زندگی کائنات کی سب سے محبوب ہستی رسالتِ مابﷺ کی وساطت کا سبب۔زندگی لہلہاتے کھیتوں میں اُگنے والے اناج کا پتہ ۔ زندگی پہاڑوں ، ریگستانوں، میدانوں میں رقص کرتی ہوئی وہ سہانی خوشبو جوخالقِ کائنات کی عظمتوں کا ادراک بخشتی ہے۔ زندگی فقیر کی درگاہ سے لے کر بادشاہوں کے محلوں کی غلام گردشوں میں گھومنے والی وہ صدا جو سب کی ایک جیسی ہے جس میں نہ ذات کا فرق نہ مذہب کا فرق اور نہ ہی رنگ ،امارت اور غربت کا تضاد۔کیونکہ زندگی تو رب کی شان کا ایسا اظہار ہے جس کی وجہ سے ربِ کائنات نے خود کو ظاہر کیا۔زندگی باغ کے مالی وہ خواہش کہ ایک ایک پھل اور پھول پر جان فدا کیے ہوئے ۔زندگی مُرغ کی وہ آواز جو صبح صادق کے وقت خالق کی یاد دلا دیتی ہے ۔ زندگی خزاں رتوں کا ایسا اظہار کہ دولت شہرت وفا سب کچھ بہار پر قربان۔ زندگی انسان کی پیدائش کا یہ احساس کہ رب اپنے بندئے کی تخلیق کا عمل اپنی رحمت کے سائے تلے رواں رکھے ہوئے ہے۔ زندگی وہ آفاقیت کہ دنیا کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ رب اپنے بندئے سے ہر شے سے زیادہ محبت کرتا ہے۔زندگی خوشیوں کی وہ مالا جس پر افریقہ و یورپ غرض یہ کہ ہر خطے کا انسان اپنی اپنی جبلت اپنی اپنی آرزو کی تشنگی کی خاطر خود میں خود کو سموئے ہوئے۔زندگی رب کی چاہتوں کا وہ انعام جس پر شاہ وگدا دونوں کا برابر کا حق ہے زند گی موسی ؑ کلیم کی اپنے رب سے ملاقات، زندگی عیسیؑ ابن مریم کی بن باپ کے ولادت باسعادت کا انداز، زندگی حضرت ابراہیمؑ ؑ کی نمرود کی آگ میں رب سے وفا کا اعلان۔زندگی حضرتِ اسماعیل ؑ کے قدموں کے صدقے عطا ہونے والا آب زم زم ۔زندگی رحمتِ عالمﷺ کی بلا تفریق رنگ و نسل مذہب سب کے لیے امن کا انعام۔زندگی سمندر کی وہ لہریں جو کنارئے کے ساتھ ٹکرانے تک خود سے خود آزاد کیے ہوئے ہوتی ہیں۔زندگی ہزروں لاکھوں فُٹ گہری کھائی جس کی اتھاہ گہرائیوں میں بسنے والا کیڑا پتنگا بھی اپنے رب کی رحمتوں سے مستفید۔ زندگی شیطان کاانکار اور رب کااقرار۔زندگی انسان کو سونپے جانے کا خالق کا انوکھا فیصلہ۔زندگی بیوی بچوں والدین بہن بھائیوں کا وہ پیار کہ انسان زندہ رہنے کا تمنائی۔زندگی کا سب سے بڑا انعام سانسوں کو چلنا۔ زندگی علم کااٹوٹ انگ کہ جس کے سبب انسان کو شرفِ انسانیت سے ہمکنار ہونا نصیب ہوا۔زندگی دوستوں کی محفلوں کی وہ ساعتیں جو زندہ رہنے کی رمق کا جادؤ جگائے سانسوں کی ڈوری کو ٹوٹنے سے بچاتی ہیں۔زندگی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت موت کا اعلان۔
اشرف عاصمی کی کتاب من کی جیت سے اقتباس