Friday, 30 October 2015

Cheque Fraud: Bounced and Dishonored Cheques, Law and Remedy in Pakistan........................ ASHRAF ASMI ADVOCATE CORPORATE CONSULTANT

Cheque Fraud: Bounced and Dishonored Cheques, Law and Remedy in Pakistan


Avoiding Cheque Fraud & Exploring Possible Legal Remedy

Bounced and Dishonored Cheques which form part and parcel of cheque fraud is one of the fastest growing financial crimes in Pakistan. Cheque defrauders are hardworking and creative. They constantly try new ways to beat the banking system and steal money from depositors/creditors and Lenders.
There are Four main types of cheque fraud:
  • Counterfeit – cheques not written or authorized by legitimate account holder.
  • Forged – Stolen cheque not signed by account holder.
  • Altered – an item that has been properly issued by the account holder but has been intercepted and the payee and/or the amount of the item have been altered.
  • Dishonestly  issuing  a  cheque. (Section 489F of Pakistan Penal Code)– Whoever dishonestly issues a cheque towards re-payment of a loan or fulfillment of an obligation which  is  dishonoured  on  presentation,  shall  be punishable with imprisonment which may extend to  three years, or with  fine, or with both, unless can establish, for which the burden of proof shall rest on him, that he had made arrangements with his  bank  to  ensure  that  the  cheque  would  be honoured  and  that  the  bank was  at  fault  in  not honouring the cheque.- Cheques issued with the intent of defrauding the drawer when there are no funds in account or the cheque is itself forged.

How can you protect yourself from fraud for items drawn on your account?

  1. Reduce the use of risk-prone cheques in favour of electronic payments such as wire payments, direct deposit and pre-authorized payments.
  2. Keep cheque stock in a secure location.
  3. Destroy unused cheques from closed accounts immediately.
  4. Checks and Balances – split responsibilities so that no one person is responsible for cheque issuance and reconciliation.
  5. Prompt account reconciliation – Reconcile your statements as soon as they are received.
  6. When re-ordering cheques, use a continuous set of serial numbers.
  7. Order only one set of cheques per account.
  8. When laser-printing cheques, issue multiple passwords to those responsible for cheque printing and use cheque paper with toner anchorage to permanently bond toner ink into the paper.
  9. Use high quality cheques employing a reasonable mix of security features.
In case you have been defrauded through a cheque you may go for several remedies available under law:
  • Report any old outstanding cheques and suspected fraud on your account immediately to the Financial institution/Bank.
  • Negotiating with Banker or Default parties.
  • Send Legal Notice to Defaulter for Payment of Cheque
  • Registration of F.I.R U/S 489F Pakistan Penal Code.
  • Reporting to FIA Electronic Frauds or Local Police Station
  • Effecting FIR by use of 22A/22B if required.
  • Effecting arrest and recovery
  • Civil and Criminal Litigation in Banking Court, Civil Court of Superior Judiciary in Pakistan.
As the banking sector in Pakistan developed over the last two decades,  need  was  felt  to introduce new  laws  in  the field of Banking  in general and with regard to  the  treatment of a “bank cheque”  in particular, keeping  in view  the
frequency of events of dishonouring of bank cheques. If you need any assistance which involves Financial Crime committed with respect to cheques we are here to help. We have a renowned name in Banking Law Litigation in Pakistan  with several reported judgements in law digests of Pakistan therefore we assure maximum relief to you after assessing your case on merits and facts.
Just leave a message and we will get back to you promptly.Cheque Fraud: Bounced and Dishonored Cheques, Law and Remedy in Pakistan, For any of these M&M is here to help.

Wednesday, 14 October 2015

RULE OF LAW.................................. A BOOK BY ASHRAF ASMI ADVOCATE HIGH COURT: نبی ﷺ کی دعا۔ عمر فاروقؓ اشرف عاصمی, a SPECIAL ART...

RULE OF LAW.................................. A BOOK BY ASHRAF ASMI ADVOCATE HIGH COURT: نبی ﷺ کی دعا۔ عمر فاروقؓ اشرف عاصمی, a SPECIAL ART...: نبی ﷺ کی دعا۔ عمر فاروقؓ اشرف عاصمی تاریخ اسلام ایسی شخصیات کے اذکار سے مزین ہے جنہوں نے اپنی نبی پاک ﷺ کے کہنے پر رب کے خاص بندئ...

نبی ﷺ کی دعا۔ عمر فاروقؓ اشرف عاصمی, a SPECIAL ARTICLE BY ASHRAF ASMI ADV ON THE SECOND CALIPH OF ISLAM HAZRAT OMER FAROOQ R.A


نبی ﷺ کی دعا۔ عمر فاروقؓ
اشرف عاصمی
تاریخ اسلام ایسی شخصیات کے اذکار سے مزین ہے جنہوں نے اپنی نبی پاکﷺ کے کہنے پر رب کے خاص بندئے ہونے کا حق ادا کر دیا۔نبی پاکﷺ نے اپنے صحابہ اکرامؓ کی ایک ایسی جماعت تیار فرمائی جنہوں نے پوری دنیا کو انسانیت سکھائی۔ انسانیت سکھانے کے لیے نبی پاکﷺ نے اپنے غلاموں کی جس طرح تربیت فرمائی اُس کا پھر نتیجہ یہ تھا کہ قیصر وکسریٰ کے ایوان لرز اُٹھے ۔اگر ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شخصیات کا جائزہ لیں تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی شجاعت پہلی قسم کی ہے اور سیدنا عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی دوسری قسم کی۔ لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی اور منکرین ختم نبوت اور منکرین زکوٰۃ کے مقابلے میں جہاد کے معاملے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسے اعتماد کامظاہرہ کیا جس کی تعریف حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بہادر انسان نے کی۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود پر حملہ آور ہونے والوں کے مقابلے میں انتہا درجے کے ضبط نفس کا مظاہرہ کیا۔ حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی شجاعت تو اتنی واضح ہے کہ وہ کسی بیان کی محتاج نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو قوت میں یہ فرق پڑا کہ وہ جو نیک کام پہلے چھپ چھپا کر کیا کرتے تھے، اب کھلے عام کرنے لگے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت غزوہ خندق میں کھل کر سامنے آئی جب انہوں نے عمرو بن عبد ود جیسے جنگجو کو قتل کیا جو اپنی جنگی مہارت کی بنا پر عرب میں ہزار سواروں کے برابر مانا جاتا ہے۔اسی طرح خیبر کے قلعے کی فتح میں آپ کا کردار شجاعت کی تابناک مثال ہے۔اسی طرح دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شجاعت کے مختلف اوصاف پائے جاتے تھے۔ ان میں سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا ابو عبیدہ، سیدنا خالد بن ولید، سیدنا عمرو بن عاص، سیدنا سعد بن معاذ، سیدنا اسید بن حضیر، سیدنا سعد بن عبادہ، سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر طیار، سیدنا عبداللہ بن رواحہ، سیدنا قعقاع بن عمرو، سیدنا عکرمہ بن ابو جہل اور سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہم کی شخصیات نمایاں ہیں۔رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطنِ مبارک سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جنم لیا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہوئی، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن میں حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ سیدہ امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ سے ہوا، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح میں تھیں۔ ان کے بطن مبارک سے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔

اس لیے سیدہ امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نواسی یا نواسی کی بیٹی نہیں ہیں۔ شرعاً اس نکاح میں کوئی روکاوٹ نہیں ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کی روشنی میں حضرت امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر فاروق کی محرم نہیں بنتیں۔1۔ مہاتما گاندھی جی نے 1935 ء میں ایک تقریر کی جو اخبار ’’Young India‘‘ میں شائع ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’آؤ حضرت عمرؒ کی مثالی زندگی کی طرف متوجہ ہوں۔ وہ ایک وسیع و عریض سلطنت کے فرمانروا تھے لیکن ایک مفلس کی طرح زندگی گزارتے تھے‘‘اسی طرح 27 جولائی 1937 کو بمقام پونہ (انڈیا) میں دوران تقریر انہوں نے کہا کہ ’’سادگی ارباب کانگرس کی اجارہ داری نہیں۔ اس حوالے سے میں رام چندر جی اور کرشن جی کا حوالہ نہیں دے سکتا۔ میں مجبور ہوں کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا نام لوں۔ وہ عظیم انسان تھے۔ وسیع علاقہ پر حکومت کے باوجود فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے‘‘۔ 2۔ ہندوستان کے ایک انقلابی مصنف ایم۔ این رائے جو کہ اشتراکیت کے بہت بڑے داعی تھے اپنی کتاب ’’Historical Role of Islam‘‘ کے صفحہ نمبر 6 پر لکھتے ہیں۔ ’’سلطنت روم کی داغ بیل اگستس نے ڈالی تھی۔ سات سو سال کی فتوحات کے بعد ایک عظیم سلطنت بنی۔ لیکن حضرت عمرؓ کے دور میں چند سالوں میں قائم ہونے والی اسلامی سلطنت کے چند حصوں کے برابر بھی نہ تھی۔ ایرانی سلطنت ایک ہزار سال تک رومیوں کے سامنے ڈٹی رہی لیکن (حضرت عمرؓ کے زمانے میں) خلفائے اسلام کے سامنے انہیں اپنا سر جھکانا پڑا‘‘ آگے چل کے وہ لکھتا ہے کہ ’’اسلام کے دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کے بیت المقدس میں فاتحانہ داخلے کا منظر یہ تھا کہ مدینہ طیبہ سے شام تک کا سفر اپنے غلام کے ہمراہ ایک اونٹ پر کرتے ہیں۔ جس پر شاہانہ سامان کی کل کائنات اونٹ کے کھردرے بالوں کا ایک خیمہ۔ ستو،جو اور کھجوروں کا ایک تھیلہ۔ پانی کیلئے مشق اور ایک پیالہ تھا‘‘3۔ ایک انگریز سکالر John Denham Parsons اپنی کتاب ’’Our son god or Christanity before Christ‘‘ (ہمارا فرزندِ خدا یا عیسائیت قبل از مسیح، مطبوعہ لندن 1895) کے صفحہ نمبر پچیس اور چھبیس پر لکھتا ہے کہ حضرت عمرؓ عظیم شخصیت کے مالک اور فیاض تھے۔انہوں نے 637ء میں بیت المقدس فتح کیا۔ اس موقع پر ان کا طرز عمل عادلانہ اور کریمانہ تھا۔ عیسائیوں نے یوروشلم کو صلیبی جنگوں کے نتیجے میں 1099ء میں فتح کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کے علاوہ یہودیوں کو بھی وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا۔ چھٹی صدی کے مسلمان گیارویں صدی کے عیسائیوں سے زیادہ شائستہ اور مہذب تھے۔ ان صدیوں کے درمیانی عرصہ کے دوران جن لوگوں نے سائنس اور تہذیب و تمدن کو درخشان و تاباں رکھا وہ عیسائی نہیں بلکہ مسلمان تھے‘‘ (یہ اور چند دیگر حوالہ جات بحوالہ ضیائے حرم فاروق اعظم نمبر صفحہ نمبر 383۔385)4۔ انسائکلو پیڈیا برٹانیکا 1888 کے صفحہ نمبر 563 پر اور 1907کے ایڈیشن کے صفحہ نمبر 586 پر ’’Muhammadanism‘‘کے عنوان سے درج ہے کہ ’’حضرت عمر دس سال تک مسلمانوں کے خلیفہ رہے۔ امور سلطنت پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔ انہوں نے اپنے نبیﷺ کی تابعداری کا حق ادا کیا۔ وہ خود مدینہ طیبہ میں بیٹھ کر امور سلطنت چلاتے لیکن ان کے دور میں وسیع و عریض فتوحات ہوئیں۔ ان کی شخصیت سحر انگیز اور طاقت ور تھی۔ انہوں نے قانون کی حکمرانی کو رواج دیا‘‘5۔ واشنگٹن ارون (Washington Irving) ایک امریکی مصنف ہے۔ اپنی کتاب ’’Lives of Successors of Muhammad PBUH‘‘ میں لکھتا ہے کہ حضرت عمر کی سیرت بتاتی ہے کہ وہ ایک عظیم انسان تھے جنہیں قدرت نے خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ عدل و انصاف کرنے والے تھے۔ وہ اسلامی فلاحی ریاست کے بانی ہیں۔ انہوں نے ایک بہت بڑی سلطنت پر قانون کی حکمرانی قائم کی‘‘۔6۔ سر ولیم میور اپنی کتاب ’’The Caliphate249 its rise249 decline and fall‘‘ کے صفحہ 190 پرلکھتے ہیں۔’’حضرت عمرؓ کی زندگی کے چند گوشے یہ ہیں۔ سادگی اور فرائض کی انجام دہی پر آمادگی ان کے دو راہنما اصول تھے۔ آپ کے نظم و نسق کے دو بہترین جوہر غیر جانبداری اور اخلاص تھے۔ آپ کا نظام عدل و انصاف بہت مضبوط تھا۔ سپہ سالاروں اور گورنروں کی تعیناتی میں آپ انصاف پسند تھے۔ کسی طرح کی رو رعایت سے آپ کا مزاج پاک تھا۔ آپ کا دل رقیق اور شفیق تھا جبکہ آپ کی دہشت سے مجرم کانپتے تھے۔ یہ حقیقت ان گنت شواہد پر مبنی ہے۔ بیوہ عورتوں اور یتیموں کی دستگیری کرتے۔ ان کے دکھ درد کو دور کر کے سکھ کا اہتمام کرنا آپ کا نصب العین تھا۔ان حقائق کے ثبوت کیلئے ایک مثال کافی ہے۔ قحط کا زمانہ تھا۔ دوران گشت آپ کی نظر ایک غریب عورت اور اس کے بھوک سے روتے بچوں پر پڑی۔ کیفیت یہ تھی کہ آگ جل رہی تھی۔ بچے ارد گرد بیٹھے تھے اور کھانے کیلئے کچھ نہ تھا۔ حضرت عمرؓ تیزی سے خود چل کے قریب کی بستی میں گئے۔ کچھ کھانے پینے کا اہتمام کیا۔ واپس آکر خود گوشت پکایا اور اپنے ہاتھوں سے بھوکے بچوں کو کھلایا۔ جب بچے کھا پی کر ہنسنے اور کھیلنے میں مصروف ہو گئے تو پھر حضرت عمر وہاں سے تشریف لے گئے‘‘ اتنا تصور اگر ہم کر لیں کہ وہ ہستی جو وجہ تخلیق کائنات ہیں یعنی سرور کائنات نبی پاکﷺ وہ اپنے رب سے عمر فاروقؓ کو مانگ رہی ہیں تو مطلب صاف واضح ہے کہ عمر فاروقؓ کو اللہ پاک نے اسلام کی مضبوطی کے لیے چن لیا تھا اور یوں عمر فاروقؓ نے مرادِ رسولﷺ ہونے کا حق ادا فرمادیا۔ 

Saturday, 10 October 2015

غازی علم دین شھیدؒ اور اب غازی ممتاز قادری اشرف عاصمی ایڈووکیٹ , DECISION OF SUPREME COURT ABOUT THE MURDER OF SALMAN TASEER EX GOVERNOR PUNJAB


غازی علم دین شھیدؒ اور اب غازی ممتاز قادری


اشرف عاصمی ایڈووکیٹ 


شائد تاریخ پھر سے خود کو دھرانا چاہتی ہے کہ نبی ﷺکے عاشقوں کی شہادتوں والی فہرست میں ایک اوررسولﷺکے عاشق کا نام شام ہو جائے۔اِسی لیے عدالت عظمیٰٰ نے اپنے فیصلے میں ممتاز قادری کی سزائے موت کی سزا کو بحال رکھا۔ اور دہشت گردی کی دفعات کو بھی دوبارہ بحال کر دیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ممتاز قادری اگر نبی پاکﷺ کی محبت سے سرشار ہے تو پھر سزائے موت کے خلاف اُنھوں نے اپیل کیوں کی۔ یہ ہی الزام غازی علم دین شھید ؒ کے اوپر لگایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ غازی علم دینؒ کا عشق اُن کو پھر اپیل کرنے سے کیوں روک نہ سکا۔ در حقیقت بات یہ ہے کہ ممتاز قادری کے چاہنے والوں نے نبی پاکﷺ کی محبت میں سرشار عوام نے ممتاز قادری کواپیل کے لیے بمشکل آماد ہ کیا اِیسی صورتحال ہی غازی علم دین شھید ؒ کے ساتھ محبت کرنے والوں کی تھی۔کہ قائد اعظمؒ جیسا عظیم قانون دان اُن کی جانب سے پیش ہوا تھا۔ممتازی قادری کے معاملے میں ہمیں کچھ سوالات کا جواب چاہیے ہوگا۔ جب ممتاز قادری نے یہ عمل کیا کیاکہ اُس وقت تک ریاست نے اُس شخص کے خلاف کوئی کاروائی کی تھی جو کہ سرعام توہین رسالت کے قانون کا مذاق بنا رہا تھا۔اور اُس خاتون کو پاس بٹھا کر پریس کانفرنس کر رہا تھا کہ یہ کا لا قانون ہے اور جرم کی مُرتکب خاتون آسیہ بی بی بے گناہ ہے۔ کیا سلمان تاثیر عدالت لگائے بیٹھا تھا کہ وہ بطور جج اِس طرح کا فیصلہ سنا رہا تھا۔ اور پھر سلمان تاثیر نے یہاں تک کہا تھا کہ وہ زرداری سے ملاقات کر کے اِس خاتون کو ملنے والی سزا ختم کروادئے گا۔اب اگر ہم بطور مسلمان اپنے عقیدئے کو دیکھیں تو ہمار ا اِس بات پر راسخ ایمان ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ کائنات میں صرف ایک ہستی ایسی ہے کہ جس کی عزت و حرمت اور مقام کے حوالے سے خالقِ کائنات خود نبی پاکﷺ کی شان کے دُشمنوں کو وعید سناتا ہے۔ اور جس وقت بھی نبی پاکﷺ کی ذات پاک کو ایذا پہنچائی گئی رب پاک نے خود اِس حوالے سے اپنا فرمان جاری کیا۔نبی پاکﷺ کی عزت و حرمت کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور ایسا کرکے مومن مسلمان اپنے رب کی سُنت ادا کر تا ہے۔جو رب یہ کہتا ہے کہ ائے نبی ﷺ اگر میں تمھیں پیدا نہ کرتا تو کچھ بھی پیدا نہ کرتا حتیٰ کہ اپنے وجود کا اظہار نہ کرتا۔نبی پاکﷺ کی عزت و حُرمت کی حفاظت کے حوالے سے ایک مسلمہ قانون جس پر تمام مسلمان پر مکمل طور پر متفق ہیں اور وہ اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والوں کے لیے ایک ہی سزا ہے کہ اُن کا سر تن سے جُدا کردیا جائے۔جو رب اپنے پیارئے محبوبﷺ کی شان مبارک کے حوالے سے اِس طرح مخلوق سے مخاطب ہے کہ اپنی آوازیں تک بھی نبی ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو ، کہیں تمھارئے تمام اعمال ضائع نہ کر دئیے جائیں۔جو رب اپنے محبوبﷺ کو کہتا ہے کہ بے شک تمھارا دُشمن بے نام ونشان رہے گا۔جس طرح کی شخصیت نبی پاکﷺ کی ہے اُس لحاظ سے اُن ﷺکی عزت و تکریم کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اُس شخص کا سر تن سے جدا کردیا جس نے یہ کہا تھا کہ میں نے نبی پاکﷺ سے فیصلہ کروایا ہے جو کہ مجھے پسند نہیں ہے آپؓ میرا فیصلہ فرمادیں۔ عمرفاروقؓ نے ایسے شخص کی جان لے لی جو کہ نبی پاکﷺ کے بطور جج کیے گئے فیصلے کو مان نہیں رہا تھا۔اگر ہم295C تعزیزاتِ پاکستان کی شق کا جائزہ لیں تو یہ بات ظاہر ہے کہ نبیﷺ کی ناموس کے خلاف بولنے والوں کو سزائے موت کا حکم ہے۔پاکستان میں تمام فقہ کے ماننے والے مسلمان اِس بات ہر متفق ہیں کہ سلمان تاثیر کاجو رد عمل تھا اگر تو ریاست اِس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتی تو پھر تو بات یہاں تک نہ پہنچتی۔جس عمل کے حوالے سے حضرت اقبالؒ نے غازی علم دین شھید کے لیے بھر پور تحریک چلائی۔اُس کام کو خلاف دین خلاف قانون کیسے کہا جاسکتا ہے۔ مجلس ملی شرعی جس میں تمام مسالک کے بلند پایہ علماء شامل ہیں نے متفقہ طور پر ممتاز قادری کی حمایت کی ہے۔جو عمل 1929 کو غازی علم دین کی سزا کے حوالے سے درست تھا اُس وقت تو انگریز متحدہ ہندوستان پر براجمان تھا اب وہی موقف غلط کیسے کہ ممتاز قادری کو سزائے موت۔ انگریز جج اور پاکستانی ججوں کے ا وال افعال میں اتنی یکسانیت خدا کہ پناہ جس معاشرئے میں انصاف ملنے سے پہلے مظلوم مرجاتا ہے اُس معاشرئے کے جج صاحبان کو غازی ممتاز کے معاملے میں قانون کی بالا دستی کا خیال کھائے جارہاہے اور اِن بدبختوں کو نبی پاکﷺ کی عزت و توقیر کی کوئی پروا نہیں۔جو عدالتیں ریمنڈ ڈیوس جیسے سفاک قتل کو معاف کر سکتی ہیں اُن کواقعی یہ حق ہے کہ وہ انگریز کی پیروری کرتے ہوئے غازی علم دین شھیدؒ کی طرح ممتاز قادری کو بھی پھانسی کی سزا دیں۔

حق وراثت سے راہِ فرار کیا یہ مسلمانی ہے؟ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ, Prevention of Anti-Women Practices Act, 2011 COMMENTS BY HUMAN RIGHTS ACTIVIST, ASHRAF ASMI ADVOCATE


حق وراثت سے راہِ فرار کیا یہ مسلمانی ہے؟
اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

خواتین کو حق وراثت نہ دینے سے معاشرئے میں معاشی و سماجی اونچ نیچ کو فروغ مل رہا ہے ۔ قران اور نبی پاکﷺ کی خواتین کی وارثت کے حق کے بارئے میں حکم کو تسلیم کیا جانا ازحد ضروری ہے۔ایسا نہ کیا جانا اِس بات کی غمازی ہے کہ معاشرئے میں منافقت عروج پر ہے اور خود کو اللہ اور نبیﷺ کاغلام کہنے والے اُس کا عملی ثبوت دینے سے قاصرہیں بلکہ انھیں مال دولت جائیداد سے محبت ہے نہ کہ نبی پاکﷺ اور اللہ پاک سے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کہاں کہ ایمان کہاں کی مسلمانی۔عام طور پر پاکستان میں یہ ایک رسم بن چکی ہے کہ بیٹی کی شادی اپنے سے کم وسائل رکھنے والی فیملی میں کی جاتی ہے تاکہ وہ معاشی اور سماجی طور پر اُن پر حاوی نہ ہوسکے۔یوں ایک تو بیتی کی شادی اپنے سے کم وسائل کے خاند ان میں کر دی جاتی ہے اور دوسرا یہ کہ بیٹی کو وراثت میں سے حصہ بھی نہیں دیا جاتا۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لڑکی کی جب اولاد ہوتی ہے اُس کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں اور یوں سماجی طور پر لڑکی کی اولاد کا مقام اُس طرح کا نہیں ہوتا جس طرح کا مقام لڑکی کے والدین کا ہوتا ہے۔ یوں امتیاز کی لکیریں پیدا ہوتی لی جاتی ہیں اور دولت کا ارتکاز سماجی تو پر اونچ نیچ کو فروغ دیتا ہے اور لڑکی کا خاندان جہاں وہ بیاہ کر آئی ہوتی ہے پہلے ہی مالی طور پر اُتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا کہ اُس کے والدین تھے ۔پس یہ فرق اِسی طرح چلتا رہتا ہے اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ بیٹی کو وراثت میں سے حصہ نہ دینے کی جو تاویلیں پیش کی جاتی ہیں وہ یہ کہ ہم نے اِس کو جہیز دئے دیا اِس کی شادی کردی ایسا تو اپنے بیٹے کی شادی پر بھی خرچہ کیا ہوتا ہے۔ جو دین انسان کے اندر پوری طرح راسخ نہیں اُس دین کا پھر ایسے شخص کو نام بھی نہیں لینا چاہیے۔ متحدہ ہندوستان کی ثقافت عورت دُشمنی پر مبنی ہے۔ خاوند کے مرنے پر اُس کی بیوی کو بھی زندہ جلادیا جاتا رہا ہے اور اب بھی ایسا ہوتا ہے۔مرد کو عورت کے لیے بھگوان کا درجہ دیا گیا ہے۔غیرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ بہن بیٹی کا معاشرئے میں وقار ہو۔ لیکن علمی معاشی سماجی عمرانی طور پر بہن یا بیٹی کو محروم کرکے نہ جانے کونسی غیرت جگائی جاتی ہے۔ معاشرہ اِس طرح کی زیادتیوں کی تاب نہیں لاسکتا کیونکہ معاشرئے میں عورت پچاس فی صد سے بھی زیادہ تعداد میں ہے ۔اور یہ ہی عورت معاشرئے کے معماروں کی اولین تربیت گاہ ہے تو ایسے میں عورت کو پسماندہ رکھ کر اور معاشی محرومیوں کا شکار بنا کر معاشرئے میں صحت مندانہ رحجانات کو کیسے فروغ دیا جاسکتا ہے۔ 2011 میں خواتین کے حوالے سے خصوصی قانون پاس کیا گیا۔اِس قانون پر ایک فی صد بھی عمل نہیں ہو سکا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ حکمرانوں کے پاس تو اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ ملک کی سماجی معاشی عمرانی اور نفسیاتی صورتحال پر ذرا غور ہی کر لیں۔ ذیل میں اِس ایکٹ کو پیش کیا گیا ہے جس میں بھاری سزائیں رکھی گئی ہیں۔ لیکن عمل درآمد کچھ بھی نہیں۔
Prevention of Anti-Women Practices Act, 2011
The Prevention of Anti-Women Practices (Criminal Law Amendment) Act 2011 was passed by the National Assembly of Pakistan on Tuesday 15th November 2011 after much great effort and lobbying by the women's movement and the movers of the Bill, led by Dr. Donya Aziz (PML- Q).This law prohibits several oppressive and discriminatory customs practiced towards women in Pakistan which are not only against the dignity of women, but also violate human rights and are contrary to Islamic Injunctions.These customary practices are used, specifically against women, in order to exert control over them, discriminate against them, infringe upon their basic rights and to manipulate them. The law has also constantly been manipulated to overlook these practices as 'crimes' and therefore allowing perpetrators to go free.Customary practices that are criminalized under this Act include:Giving a female in marriage or otherwise in badla-e sulh, wanni or swara
Depriving women from inheriting property Forced marriages, Marriage with the Holy Quran,The 147Prevention of Anti-Women Practices Act, 2011148 amended Pakistan Penal Code and Criminal Procedure Code as well by adding a new chapter to Pakistan Penal Code to bring the punishments into effect. Section 310-A
Under section 310-A, there shall be punishment for giving a female in marriage or otherwise in badla-e sulh, wanni or swara or any other custom or practice under any name in consideration of settling a civil dispute or a criminal liability, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to seven years but shall not be less than three years and shall also be liable to a fine of five hundred thousand rupees. Section 498A,Under section 498 A, depriving women from inheriting property by deceitful or illegal means shall be punished with imprisonment which may extend to ten years but not be less than five years or with a fine of one million rupees or both.Section 498 B,Under section 498 B, forced marriages are ten years maximum and three years minimum of jail term along with a fine of five hundred thousand rupees. Section 498 C,Under section 498C, forcing, arranging or facilitating a woman146s marriage with the Holy Quran is punishable with a jail term of maximum seven and minimum three years, along with a fine of five hundred thousand rupees .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے اِس موضوع پر الزہرہ گرلز کالج طفر اللہ چوک سرگودہا میں خصوصی لیکچر دیا۔ یہ مضمون اُس لیکچر کا خلاصہ ہے۔ 

Saturday, 3 October 2015

حضرتِ اقبالؒ کا نور چشم جاوید اقبالؒ.............. اشرف عاصمی ایڈووکیٹ, special article on the death of javid iqbal r.a



حضرتِ اقبالؒ کا نور چشم جاوید اقبالؒ

اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

اقبالؒ جنہیں دنیا اپنا مرشد مانتی ہے ۔جنہوں نے پوری دنیا کو روحانیت کو آفاقیت کے انداز میں سمجھانے کی بھر پور کو شش کی وہی اقبالؒ جس نے کہا تھا کہ حیا نہیں زمانے کی آنکھ میں باقی خدا کرئے جوانی تیری رہے حضرتِ اقبالؒ کا نور چشم جاوید اقبالؒ 
اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
اقبالؒ جنہیں دنیا اپنا مرشد مانتی ہے ۔جنہوں نے پوری دنیا کو روحانیت کو آفاقیت کے انداز میں سمجھانے کی بھر پور کو شش کی وہی اقبالؒ جس نے کہا تھا کہ حیا نہیں زمانے کی آنکھ میں باقی خدا کرئے جوانی تیری رہے بے داغ اور یہ الفاظ اقبالؒ نے اپنے پیارئے بیٹے جاویدؒ کے لیے کہے تھے۔چند سال پیشتر ہمارئے دوست جناب علامہ رضا الدین صدیقی نے ایک سیمنار آواری ہوٹل لاہور میں جسٹس پیر کرم شاہؒ کی یاد منعقد کیا تھا اُس میں جناب جاوید اقبالؒ بھی شریک ہوئے تھے۔ راقم جناب جاوید اقبالؒ کو ہال کے دروازئے سے سٹیج تک احتراماً لایا اور راقم نے بے اختیار یہ تصور کرتے ہوئے جاوید اقبالؒ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا کہ ان ہاتھوں کو حضرت اقبال نے بھی چوما ہوگا۔ تصور اقبالؒ کی بابت مجھے روحانی سرشاری کے لمحات میسر آئے اور راقم نے جناب جاوید اقبالؒ سے ہاتھ ملایا تھا اور اُن کے انتہائی نرم ہاتھ کا لمس مجھے آج بھی روح میں اُترتا محسوس ہوتا ہے۔یقیناً جاوید اقبالؒ خود بھی بہت بڑئے انسان تھے لیکن میری اُن سے عقیدت کی وجہ حضرت اقبال ؒ کے بیٹے ہونے کی وجہ سے رہی۔راقم زندگی کی سنتالیس بہاریں اور خزائیں دیکھ چکا ہوں اور یقین جانیے مجھے ہمیشہ فخر رہتا ہے کہ میں نے بھی اُس دور میں اُس شہر میں زندگی کی رمق محسوس کی جہاں اقبالؒ کے بیٹے جناب جاوید اقبال اپنے علم و فکر سے نواز رہے تھے۔جب راقم نے جناب جاوید اقبالؒ کی تقریر تصوف کے حوالے سے سنی تو یقین کیجیے کہ واقعی مجھے یہ احساس ہوا کہ جناب جاوید اقبالؒ نے حضرت اقبالؒ کے نظریات اور فلسفے کی لاج رکھ لی ہے۔راقم کو یہ بھی افتخار حاصل ہے کہ جس لاہور بار اور لاہور ہائی کورٹ بار کے جاوید اقبالؒ رکن تھے میں بھی ہوں ۔یوں وکلاء کیمونٹی ہونے کے ناطے وہ ہماری پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے بھی رول ماڈل ہیں۔ ولید اقبال ایڈووکیٹ جو کہ جناب جاوید اقبالؒ کے فرزند ہیں اُن سے بھی عقید ت کا رشتہ قائم ہے اُس کی وجہ بھی جناب اقبالؒ کی ذات ہے۔اللہ پاک نے جناب جاوید اقبالؒ کو دنیاوی طور پر بھی عزت واحترم سے نوازا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے سپریم کورٹ کے جج رہے۔ سینیٹر رہے۔ تمغہ امتیاز سے نواز گیا۔ اقبالؒ کا فرزند ہونے کا حق جناب جاوید اقبالؒ نے ادا کر دیا۔اب جبکہ جناب جاوید اقبالؒ روشن راہوں کے مسافر بن کر اپنی خالق کے حضور پیش ہو چکے ہیں لیکن یہ تذکرہ بے جاء نہ ہوگا کہ جاوید اقبالؒ سے حسد کرنے والے نام نہاد دانشو صرف اقبال ؒ دشمنی کے نام پر ان سے اختلاف کرتے رہے لیکن روحانی ہستی اقبالؒ کافرزند اپنے لوگوں کی رہنمائی کے لیے آخری سانس تگ و تاز میں رہا۔موجودہ حالات میں اقبالؒ کی فکر کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ جناب جاویدؒ بھی اقبالؒ اللہ پاک کے بتائے ہوئے رستے ہر چلنے میں ہی مسلمانوں کی فلاح سمجھتے تھے جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ قلندر میلِ تقریر نہ دارد ، جز ایں نکتہ اکسیر نہ دارد، ازاں کشتِ خرابے حاصلے نیشت ،کہ آب از خون شبیر ندارد (ارمغانِ حجاز)حضرتِ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ قلندر لمبی چوڑی تقریر کی طرف رغبت نہیں رکھتا۔سوائے اُس نکتے کہ جو میں تمھارئے لیے کہنے والا ہوں کہ اِس ویران کھیت سے کوئی پیداوار حاصل نہیں کی جاسکتی کہ جس کی حضرت امام حسینؓ(شبیرؓ) کے خون سے آبیاری نہ کی جائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان جہاد فی سبیل اللہ کے بغیر یا باطل کے مقابلے میں عملاً نکلے بغیر کسی قسم کی عزت اور وقار حاصل نہیں کرسکتے۔جہاد کے حق میں اور باطل کے خلاف زبانی کلامی باتیں کرنے سے تمہاری اجڑی ہوئی دنیا آباد نہیں ہو سکتی اس کا ایک ہی طریقہ ہے جو کہتے ہو اِس پر عمل کرو۔ جاوید ؒ نے بھی اپنے والد کی اسی فکر کو پنایا کہمگو از مدعائے زندگانی ، ترابرشیوہ ہائے اذنگہ نیست، من از ذو ق سفر آنگونہ مستم کہ منزل پیش من جز سنگ رہ نیست ( پیام مشرق) جناب جاوید اقبالؒ اپنی والد کے اِس فلفے ہر کار بند رہے ۔ کہ جیسا کہ حضرت اقبالؒ فرماتے ہیں زندگی کے مقصد کے بارئے زبان مت کھول یعنی بیان کرنے کی کوشش نہ کرِ اس کی اداؤں پر تیری نظر نہیں یعنی تو اِس کے انداز کو نہیں سمجھتا۔ میں سفر کی لذت سے اتنا مست ہوں کہ میرے آگے منزل راستے کا پتھر ہے اور کچھ نہیں یعنی میں منزل کو سنگِ راہ سمجھتا ہوں ۔ میں منزل پر پہنچ کر بھی منزل کو منزل کو منزل نہیں سمجھتا اور ایک نئی منزل کے لیے رواں دواں ہوجاتا ہوں ۔ زندگی سکون وثبات کا نام نہیں حرکت وعمل کا نام ہے۔فرشتہ گرچہ بروں از طلسم افلاک است نگاہِ او بتماشائے ایں کف خا ک است (زبوررِعجم)حضرت اقبالؒ فرماتے ہیں فرشتہ اگرچہ انسانوں کی طرح آسمان کے جادو یعنی قوانینِ فطرت سے آزاد ہے ۔اس کے باوجود اس کی نظر مٹھی بھر خاک کے پتلے(انسان) پر ہے یعنی وہ انسان کی رفعت کی طرف دیکھتا ہے جو اُسے عشق کے سوزوگداز کی بدولت حاصل ہے۔ ہوس ہنوز تماشا گر جہانداری است ، وگرچہ فتنہ پس پردہ ہائے زنگاری است (زبور عجم) جناب جاویدؒ نے ساری زندگی حضرت اقبالؒ کے فلسفے پر کاربند رہے کہ جس میں حضرتِ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ ہوس ابھی تک اسی فکر میں ہے کہ کس طرح دنیاوی ما ل ودولت اکھٹی کی جاسکتی ہے۔ ہرئے رنگ کے پردوں (آسمان) کے پیچھے اور کو نسا فتنہ پوشیدہ ہے؟ دنیا میں جتنے بھی فتنے فساد پیدا ہوئے اُن کا سبب ہوس ہی ہے۔ زماں زماں شکند آنچہ می تراشد عقل،یا کہ عشق مسلمان و عقل زناری است (زبور عجم) جاویدؒ نے اقبال کی یہ بات عملی طور پر ثابت کی کہ حضرتِ اقبال نے جیسے فرمایا تھا کہ عقل جو کچھ تراشتی ہے اُسے لمحہ بہ لمحہ تورتی رہتی ہے کیونکہ وہ درست نتیجہ اخذ نہیں کرسکتی۔ اب عقل کی باتیں چھوڑ کر عشق اختیار کرلے کیونکہ عشق مسلمان ہے صحیح راستے پر ہے اور عقل برہمن کا زنار ہے یہ کفر کی راہ چلتی ہے عشق معرفتِ حق کی طرف لے جاتا ہے۔جناب جاوید ؒ نے اپنی فرزند اقبالؒ ہونے کا حق ادا کیا اور اِس سوچ کو پروان چڑھایا کہ مگو از مدعائے زندگانی، ترابرشیوہ ہائے اذنگہ نیست ، من از ذو ق سفر آنگونہ مستم ،کہ منزل پیش من جز سنگ رہ نیست، ( پیام مشرق) جیسا کہ جناب حضرت اقبالؒ فرماتے ہیں زندگی کے مقصد کے بارئے زبان مت کھول یعنی بیان کرنے کی کوشش نہ کرِ اس کی اداؤں پر تیری نظر نہیں یعنی تو اِس کے انداز کو نہیں سمجھتا۔ میں سفر کی لذت سے اتنا مست ہوں کہ میرے آگے منزل راستے کا پتھر ہے اور کچھ نہیں یعنی میں منزل کو سنگِ راہ سمجھتا ہوں ۔ میں منزل پر پہنچ کر بھی منزل کو منزل کو منزل نہیں سمجھتا اور ایک نئی منزل کے لیے رواں دواں ہوجاتا ہوں ۔ زندگی سکون وثبات کا نام نہیں حرکت وعمل کا نام ہے۔جناب اقبالؒ کی سوچ کاو یہ ادراک تھا کہ مسلمانوں کی زبوں حالی کیسے ختم کی جاسکتی ہے۔ اِس مقصد کے لیے انھوں نے مردِ مومن کو یہ سبق دیا ہے کہ جس کو تو منزل سمجھ رہا ہے یہ تو پڑاؤ ہے منزل نہیں ہے یہ حیات سکوت کا نام نہیں ، یہ زندگی تو حرکت کا نام ہے اِسی لیے علامہؒ اپنے مقصد سے اتنی لگن رکھتے ہیں کہ وہ ستارون سے آگے جہاں اور بھی ہے کا پیغام دیتے ہیں۔ اقبالؒ کے ہاں مایوسی کا دور دور سے بھی کوئی واسطہ نہیں اقبال بندہِ مومن کو عقلی تقاضوں سے بہت آگے عشق کے میدان میں لے جاتے ہین وہ کہتے ہیں کہ عشق ہی تمھاری منزل ہے۔حتیٰ کہ جنابِ اقبالؒ یہاں تک پکار اُٹھے ہیں کہ وہ انسان کو یہ بتلاتے ہیں کہ کیونکہ تیرے اندر عشق کی وجہ سے سوز و گداز ہے اِس لیے فرشتے آسمانوں کے باسی ہونے کے باوجود انسان کی قسمت پر رشک کر رہے ہیں۔ اقبالؒ کے خیالات یہ ہیں کہ وہ عمل پر زور دیتے ہیں وہ گفتار کے غازی کی بجائے کردار کے غازی بننے کی تلقین کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ہدایت بھی فرماتے ہین کہ اگر تم نے دُنیا میں عزت واحترام سے رہنا ہے تو پھر جنابِ حضرت امام حسینؓ کی طرح جہاد کرو اور ہمیشہ سچ کا ساتھ دو۔قوموں کی زندگی میں لیڈرشپ کا بہت اہم کردار ہوا کرتا ہے۔جس قوم میں اعلیٰ قومی قیادت موجود ہو اُس قوم کو ہر طرح کے خطرات سے نبردآزما ہونے کی ہمت مل جاتی ہے۔ گویا قومی سطح پر قیادت ہی پوری قوم کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہوتی ہے ہر کس و نا کس کی رائے کا احترام کرنا بھی درحقیت لیڈر شپ کا کمال ہوتا ہے۔موجودہ دور کو قحط الرجال کا دور کہا جائے تو بے جاء نہ ہوگا۔ اب جب جناب جاوید اقبالؒ اِس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں وہ علم و عمل کے پیکر تھے۔اور پاکستانی قوم کو یتیم کر گئے ہیں ۔ اللہ پاک اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور حضرت اقبالؒ کی نسبت سے میرا رب پاک اُنکی دنیاوی لغزشوں کو معاف فرمائے۔اقبالؒ تیرے شہر میں کہرامچا ہے۔ نور چشم اقبالؒ جناب جاوید اقبالؒ ہمارئے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔