وکلاء کے ہراول دستے کےعلمبردار
پیر مسعود چشتی ایڈووکیٹ
میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
پاکستان میں وکلاء نے ہمیشہ ہر تحریک میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا
ہے ۔ وکلاء کی اپنے بار ز کے الیکشن اِس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اُن کے
اندر برداشت رواداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔اِس وقت جب کہ پاکستانی
معاشرئے میں حقیقی جمہوریت مفقود ہے اور ملک میں بھائی چارئے کے فضاء سیاسی
رہنماؤں کے ہاں ناپید ہے اِن حالات کے باوجود وکلاء معاشرئے میں جمہوی
روایات کو پروان چڑھائے ہوئے ہیں۔ ہر شعبے میں زوال کی وجہ سے لوگوں کے لیے
دوسروں پر تنقید کرنا بہت آسان ٹھرا ہے لیکن مثبت کام کرکے اُس کی
عملی تصویر پیش کرنا مشکل ہوتا ہے۔وکلاء میں دو بڑئے گروپ ہیں جن کے اخلاص
پر اُنگلی نہیں اُٹھائی جاسکتی۔ ایک گروپ میں جناب حامد خان ہیں اور
دوسری طرف عاصمہ جہانگیر ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ
دونوں گروپ ایک ہی امیدوار کی سپورٹ کر رہے ہوتے ہیں۔اِس سے یہ بات اظہر من
الشمس ہے کہ عدم برداشت کا جو سیلاب اُمڈ آیا ہے اُس کے آگے وکلا پُل
باندھے کھڑئے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے 215-2016 کے الیکشن کے حوالے سے
پیر مسعود چشتی کو وکلاء کے بڑے گروپوں کی حمایت حاصل ہے۔عاصمہ
جہانگیر، نصیر بھٹہ،برہان معظم، اعظم نزیر تارڑ،سید ظفر گیلانی،شرافت خان،
بابر وحید، ملک رمضان جیسے وکلاء رہنماء پیر مسعود چشتی کے قافلے کے
سرکردہ دہ رہنماء ہیں اِسی طرح بے شمار باررز کے عہدئے داران پیر مسعود
چشتی کی الیکشن مہم میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔لاہور گوجرانولا، فیصل
آباد، سیالکوٹ، منڈی بہاول دین،سرگودہا، خوشاب ، بھکر، میانوالی،ٹوبہ ٹیک
سنگھ، چنیوٹ، جھنگ،حافظ آباد، گجرات ودیگر اضلاح کی بارز میں جناب مسعود
چشتی کی حمایت میں بھر پور جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ۔وکلا کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وطن عزیز میں جمہوری کلچر کو پروان
چڑھایا جائے اس لیے آندھی ہو یا طوفان ہو ملک میں آمریت کا ظلم بپا ہو یا
جمہور رواں دواں ہو وکلاء کے الیکشن ہمیشہ ہوتے ہیں ۔ سب سے زیادہ خوش آئین
بات یہ ہے کہ الیکشن ہونے کے بعد وکلاء گروپ پھر سے آپس میں شیروشکر
ہوجاتے ہیں گویا بار کے الیکشن جمہوری سوچ کی نمو میں تیزی اور برداشت اور
جیو اور جینے دو کے فروغ کے کلچر کے نہ صرف معمار ہیں بلکہ جمہوریت کے روشن
دیپ جلانے کے لیے وکلاء نے جانوں کے نذرانے ہمیشہ پیش کیے ہیں۔اللہ پاک کا
بے حد شُکر ہے کہ میڈیا کی آزادی کے بہت سے ثمرات انسانی حقوق کی آزادیوں
کے شعور کی بیداری کے حوالے سے قوم کو تفویض ہوئے ہیں اِس لیے وکلاء
جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور ووٹ کی طاقت کو ہی اپنے وطن اور اپنی
کیمونتی کے لیے بترین گردانتے ہیں۔ غلام محمد، سکندر مرزا، ایوب خان، ضیاء
الحق اور مشرف کے نظریے کو کبھی بھی پذیرائی نہیں ملی حالانکہ ان آمروں نے
ملک کو کئی صدیاں پیچھے دھکیل دیا ہے لیکن نام اب بھی جموری سوچ کا باقی ہے
عوام الناس کے اندر یہ شعور جاگزیں ہو چُکا ہے کہ ملک کے تما م تر معاشی
سماجی ثقافتی و عمرانی دکھوں کا علاج صرف اور صرف جمہور کومضبوط کرنے میں
ہے۔ راقم انسانی حقوق کی آزادیوں کا علمبرادر ہے اور مصطفے کریمﷺ نے جس
سسکتی ہو انسانیت کا بول بالا کیا اور تمام انسانوں کے درمیان مساوات عملی
طور پر قائم کرکے دیکھائی اُسی نصب العین کا پرچار کرنے والا ہے اِس لیے
وکلاء تحریک جس نے اپنے وقت کے جابر مشرف کو شکست دی وہ وکلاء تحریک
درحقیقت امام عالیٰ مقام حضرت امام حسینؓ کے مشن کی علمبردار ہے اور وکلاء
کی تمام تحاریک کے لیے پلیٹ فارم بار ہی مہیا کرتی ہیں۔موجودہ حالات میں جس
طرح ماتحت عدلیہ میں رشوت کا بازار گرم ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ عدلتی
کلرکوں نے پرائیوٹ لوگوں کو کام کے لیے رکھا ہوا ہے یوں جن ایوانوں سے
انصاف ملنا ہوتا ہے اُن ایوانوں میں کرپشن کا بازار گرم ہے انسا نی سوچ کا
احاطہ کرنا اس لیے بھی دشوار ہے کہ اس کی جبلت میں خسارے کا سودا کرنا ہے
لیکن وہ لوگ خسارے میں نہیں رہتے جن کا اوڑھنا بچھونا ربِ کائنات کی رضا
ہو۔ انسا نی تاریخ وتمدن میں ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے انسان نے بہت سے
سنگِ میل عبور کیے ۔ قیامَ پاکستان کے فورا بعد جب تعمیرَ پاکستان کے لیے
پوری قوم جوش و جذبے سے سرشار تھی اُس وقت یہ تصور بھی نہیں تھا کہ ناجا ئز
ذرائع سے روزی کمائی جائے۔ بلکہ ایسے افراد جو رشوت ستانی میں ملوث پائے
جاتے تھے سوسائٹی میں اُن کی مذمت کی جاتی اور سماجی با ئیکاٹ بھی کیا
جاتا۔لوگ ایسے افراد سے میل جول نہ رکھتے جو رزقِ حلال کی بجائے رزقِ حرام
کا اسیر ہوتا۔ حضرت
قا ئداعظمؒ اور قائد ملت لیاقت علی خانؒ کے بعد قوم کی
حکمرانی ایسے لوگوں کے پاس چلی گئی جو ہر ناجائز عمل کو خود کے لیے جائز گردانتے تھے بس پھر کیا تھا
اُس کے بعد پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ قناعت کا جنازہ اس طرح ہمارے
معاشرے سے نکلا کہ بس خدا کی پناہ۔ قیام پاکستان کے مقاصد کہیں گم ہو کر رہ
گئے ہیں۔جب اقتدار کے ایوانوں میں سے انصاف اُٹھ گیا تو پھر نچلے طبقے میں
بھی رشوت اور سفارش سرایت کرتی چلی۔ اِس لیے ضرورت اِس امر کی ہے انتخابات میں اِس بات کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے کہ
معاشرئے انصاف کی سربلندی کے لیے وکلاء کردار ادا کریں۔

No comments:
Post a Comment