Sunday, 27 December 2015

لاہور بار کے 9 جنوری 2016 کو ہونے والے انتخابات کا تجزیہ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ..................................




لاہور بار کے 9 جنوری 2016 کو ہونے والے انتخابات کا تجزیہ

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

لاہور بارایسوسی ایشن جو کہ ایشیا کی سب سے بڑی بار ہے۔پاکستان کی سیاسی سماجی زندگی میں اِس بار کے وکلاء کا کردار بہت ہی اہم ہوتا ہے۔بار ایسوسی ایشن کا بنیادی مقصد تو بار اور بنچ کے درمیان تعلق کے حوالے سے ایسا کردار ادار کرنا ہے کہ جس سے وکلاء اور ججز کے درمیان انصاف کی فراہمی کے حوالے سے کوئی رکا وٹ پیش نہ آئے۔مارشل ہوں جمہوری حکومتیں ہوں وکلاء کے بار الیکشن ہر سال ہونا لازمی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وکلاء کے نزدیک بار کی حثیت ماں جیسی ہے۔ماں کی عزت و تکریم کے حوالے سے ہمارئے مذہب اور معاشرئے کے اندر جو جذبات پائے جاتے ہیں اُس پر لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔جب بھی کسی بھی جابر حکمران نے ملک میں آمریت کو فروغ دیا تو لاہور بار ہمیشہ ہر اول دستہ بن کر اُس کے خلاف ڈٹ گئی۔ پاکستان کے بڑئے نام جن کا کردار بہت اُجلا ہے وہ بھی اِس بار کے رکن رہے ہیں۔بار کی جانب سے متوازن کردار کی ہی بدولت ججز کی ذاتی پسند و نا پسند کے آگے پُل باندھا جاتا رہا ہے۔ جج صاحبان بھی وکیل ہوتے ہیں اور اُس کے بعد جج بنتے ہیں لیکن بار کے بعد بنچ کے رکن بننے کی وجہ سے اُن پر ذمہ داریوں کا بوجھ اور طرح کا ہوجاتا ہے۔اِس لیے اُن کے رویے اور طریقہ کار سے بعض اوقات کسی ایک فریق کے وکلاء ہم آہنگی محسوس نہیں کرتے۔ اِس سارئے عمل میں بار کی جانب سے ہی مثبت کردار کی وجہ سے بار اور بنچ جس گاڑی کے دو پہیے ہیں وہ رواں دواں ہیں۔اُخروی زندگی کی فکر رکھنے والا ہر انسان یقینی طور خود کے اعمال کا جواب دہ اپنے رب کے سامنے خود کو تصور کرتا ہے لیکن ہوس کی وجہ سے اخلاقی دیوالیہ پن نے جس طرح ڈیرئے دیگر شعبہ جات میں ڈال رکھے ہیں اِس سے یقینی طور پر بار اور بنچ بھی ایسے عناصر سے نہیں بچ سکے۔یہی وجہ ہے کہ معاشرئے کے انتہائی پڑھے لکھے افراد پر مشتمل بار اور بنچ میں بعض اوقات لڑائی جھگڑئے جیسی کیفیت نظر آتی ہے۔اِس سارئے عمل کی وجہ سے بار کا کردار اتنا اہم کہ وکالت جیسے پیشے کی معاشرئے میں عزت اور تکریم کے لیے صرف یہی بار ہی کردار ادا کر سکتی ہے کہ ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو کہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔لاہور بار کے الیکشن نو جنوری 2016 کو منعقد ہورہے ہیں۔ اِس حوالے سے صدارت کے لیے جناب جہانگیر جوجھہ اور چوہدری تنویر کے درمیان ون آن ون مقابلہ ہے۔چونکہ جہانگیر جو جھہ پچھلے سال صرف چند ووٹوں سے کامیابی سے دور رہے اِس لیے وہ اِس بار زیادہ پُر اُمید ہیں۔فُٹ ورک کا بار کے الیکشن میں انتہائی اہم کردار ہوتا ہے ڈور ٹو ڈور کنویسنگ کی وجہ سے حالات پلٹا کھا جاتے ہیں۔ اِس لیے راقم کی نظر میں اِس دفعہ جہانگیر جو جھہ کی جیت بہت ہی قریب دیکھائی دئے رہی ہے۔ سنےئر نائب صدارت کے لیے یقینی طور پر عرفان تارڑ فیورٹ ترین ہیں اور اِن کے علاوہ
نائب صدر دوئم کے لیے رانا سعید کا پلڑہ بھاری دیکھائی دیتا ہے۔ ماڈل ٹاون کے سیٹ برائے نائب صدر کے لیے جناب کاکڑ اور جناب وٹو کے درمیان سخت مقابلہ دیکھائی دئے رہا ہے۔سیکرٹری کی سیٹ پر مقابلہ انتہائی سخت ہے۔ فیصل منظور چوہدری، نواب چیمہ کی پوزیشن کا فی بہتر ہے۔ جوائنٹ سیکرٹری کے لیے رانا سجاد کی جیت دیکھائی دئے رہی ہے اور فنانس سیکرٹری رفعت طفیل کی پوزیشن کا فی بہتر ہے۔آخری بات جو بہت دُکھ کے ساتھ تحریر کررہا ہوں وہ یہ جسٹس (ر ) وقار حسن میر جو کہ الیکشن کمشنر ہیں لاہور بار کے انتخابات کے لیے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ اُنھوں نے بالکل آخر میں کھانے پینے اور فلیکس بورڈ لگانے کی پاپندی لگائی۔ لیکن اِس سے پہلے لاہور کے بڑئے برئے ہوٹلوں میں لاکھوں روپے لگا کر امیدواروں نے کھانے کھلائے۔ عام کھلی جگہوں پر بھی یہی کچھ کیا گیا۔ اِس پیسے کی ریل پیل سے حلال کی کمائی کھانے والے کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اِس روپے پیسے کے شو آف نے تو ہوس پیدا کردی ہے ہر کوئی بار کا عہدئے دار بن کروڑ روپے کمانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اِن حالات میں پھر وکلاء کی فلاح اور بار اور بنچ کے درمیاں انصاف کی فراہمی کا مشن تو بالکل معدوم ہو کر رہ گیا ہے۔ 

No comments:

Post a Comment